اصغر خان اچکزئی، جو عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے ایک نمایاں رکن ہیں، چمن کے عوام کے لیے ایک ناکام سیاستدان ثابت ہوئے ہیں۔ ان کے دور اقتدار میں جب چمن کے شہری شدید معاشی بدحالی، بارڈر بندش اور روزگار کے بحران کا شکار تھے، انہوں نے عوام کے مسائل کے حل کے بجائے خاموشی اختیار کی۔ سرحدی تنازعات اور تجارتی رکاوٹوں کے دوران چمن کے عوام احتجاج کرتے رہے، لیکن ان کی جانب سے کوئی نمایاں قدم نہ اٹھایا گیا۔
اب جبکہ وہ اقتدار سے باہر ہیں، اچانک انہیں عوامی حقوق کا احساس ہو گیا ہے، مگر یہ تبدیلی محض ظاہری نظر آتی ہے۔ انہوں نے اپنی سیاست بچانے کے لیے ریاست مخالف قوتوں کا ساتھ لینے کا رجحان اپنایا ہے، جیسا کہ حال ہی میں ماہ رنگ بلوچ جیسے افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ یہ وہی شخصیت ہے جو اقتدار میں ہوتے ہوئے چمن کے شہریوں کی حقیقی مشکلات کو دور کرنے میں ناکام رہی اور اب اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے ریاست مخالف بیانیہ کو فروغ دے رہی ہے۔
چمن کے عوام اور بلوچستان کے باشعور شہری اب ایسے سیاستدانوں کو پہچان چکے ہیں جو صرف اقتدار کے لیے کھیل کھیلتے ہیں، نہ کہ عوام کی خدمت کرتے ہیں۔ اصغر خان اچکزئی کی موجودہ سرگرمیاں اس بات کی دلیل ہیں کہ وہ ذاتی مفادات کے لیے ریاست مخالف بیانیہ کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے نہ عوام کی بہتری ہوتی ہے اور نہ ہی ریاست کی سالمیت برقرار رہتی ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ ایسے سیاستدانوں کا محاسبہ کریں اور حقیقی عوامی نمائندوں کو موقع دیں جو واقعی عوام اور ریاست کے وفادار ہوں۔













Leave a Reply