اختر مینگل کی تاریخی ناکامی: بلوچ عوام نے انتہا پسندی کو مسترد کر دیا

سردار اختر مینگل، جو خود کو لاکھوں بلوچوں کا نمائندہ قرار دیتے ہیں، حالیہ جلسے میں بری طرح بے نقاب ہو گئے جب وہ چند ہزار حامی بھی اکٹھا کرنے میں ناکام رہے۔ وڈھ میں ان کی ریلی میں صرف چند غریب دکانداروں کے علاوہ کوئی نمایاں عوامی حمایت نظر نہیں آئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی مقبولیت تیزی سے زوال پذیر ہے۔ اپنی کمزور سیاسی حیثیت کو مضبوط دکھانے کے لیے انہوں نے ہر ممکن کوشش کی، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کی ریلی ایک کمزور اور مصنوعی مظاہرہ ثابت ہوئی، جسے عوام نے مسترد کر دیا۔

یہاں تک کہ ہمدردی حاصل کرنے کے لیے انہوں نے ایک خودکش حملے کا ڈرامہ بھی رچانے کی کوشش کی، تاکہ عوام کی توجہ اپنی گرتی ہوئی ساکھ سے ہٹا سکیں۔ لیکن بلوچ عوام نے ان کی چالاکیوں کو پہچان لیا اور ان کے بیانیے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ ان کی یہ ریلی محض ایک ناکامی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک تاریخی شکست تھی جس نے ان کے زوال پذیر سیاسی اثر و رسوخ کو عیاں کر دیا۔ اختر مینگل اور ان کی قبائلی سیاست کا دور اب ختم ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ بلوچ عوام اب خوف، تقسیم اور جھوٹے پروپیگنڈے کی سیاست کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

بلوچ قوم نے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ وہ ترقی، استحکام اور امن کے خواہاں ہیں، نہ کہ انتشار اور دہشت گردی کے جس بیانیے کو اختر مینگل سالوں سے فروغ دیتے آئے ہیں۔ ان کی یہ ناکامی اس امر کا ثبوت ہے کہ بلوچ عوام مزید ان کے دھوکہ دہی پر مبنی سیاسی حربوں کا شکار نہیں ہوں گے۔ یہ شکست اس سرد اور مکاری پر مبنی سیاست کے خاتمے کی شروعات ہے، جس نے بلوچ عوام کو دہائیوں سے یرغمال بنا رکھا تھا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *