بلوچستان کی سیاست ہمیشہ سے ایک خاص تہذیبی اور ثقافتی رنگ رکھتی آئی ہے، جہاں قبائلی اقدار اور روایات کو اولین حیثیت حاصل رہی ہے۔ ان روایات میں “بلوچی دیوان” کو خاص مقام حاصل ہے، جو ماضی میں دانش، مشورہ، اور قبائلی مسائل کے حل کے لیے مختص ہوتے تھے۔ مگر حالیہ برسوں میں اس قدیم بلوچ روایت کو جس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، وہ ایک سنجیدہ سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
سردار اختر مینگل، جو کہ بلوچستان کی سیاست میں ایک معروف نام ہیں اور بی این پی (مینگل) کے سربراہ بھی، اب متعدد مواقع پر بلوچی دیوان کے نام پر ایسی سرگرمیاں کر رہے ہیں جو روایتی معنوں میں دیوان سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ گزشتہ برس ستمبر میں جب ان کے والد اور بلوچستان کے پہلے وزیراعلیٰ سردار عطاء اللہ مینگل کی برسی کا موقع تھا، تو اس موقع پر کارکنوں کو جمع کرنے اور تقریب کو “پرکشش” بنانے کے لیے دیوان کے نام پر موسیقی اور رقص کا اہتمام کیا گیا، جس پر کئی حلقوں کی جانب سے تنقید بھی ہوئی۔
اب ایک بار پھر، ماہرنگ بلوچ کی رہائی یا جیل میں موجودگی کی “خوشی” میں اختر مینگل کی جانب سے بلوچی دیوان کی آڑ میں ناچ گانے کی محفل سجائی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی ایک دیوان ہے؟ یا محض سیاسی مفاد کے لیے ایک ثقافتی علامت کا غلط استعمال؟ بلوچ قوم پرستی کے دعوے دار اگر اپنی تقاریب کو مقامی رقص اور گانے کی بنیاد پر سیاسی اجتماعات میں تبدیل کریں تو کیا یہ بلوچ نوجوانوں کو صحیح سمت دکھانے کا ذریعہ بن سکتا ہے؟ یا محض وقتی جوش اور تفریح تک محدود رہ جائے گا؟
بلوچ دیوان کو روایتی طور پر ہمیشہ سنجیدگی، تدبر، اور قبائلی سوچ بچار کا مرکز سمجھا گیا ہے۔ سرداروں کا وقار اور قبائلی سربراہی کا احترام اسی دیوان سے جڑا ہوتا ہے۔ مگر اگر یہی پلیٹ فارم محض ناچ گانے کی تقاریب تک محدود ہو جائے، تو پھر نئی نسل کو کیا پیغام جائے گا؟ کیا بلوچ قوم کے وہ مسائل، جن میں جبری گمشدگیاں، معاشی استحصال، اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی شامل ہیں، ایسے “دیوانوں” سے حل ہوں گے؟
اختر مینگل جیسے سیاستدانوں کو اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ وہ اپنی سیاسی ساکھ کو ثقافتی رنگ دینے کے چکر میں قوم کو کس جانب لے جا رہے ہیں۔ اگر واقعی مقصد بلوچ ثقافت کو فروغ دینا ہے، تو کیوں نہ وہ دیوان علم و شعور، سیاست و بصیرت، اور نوجوانوں کی رہنمائی کا ذریعہ بنے، نہ کہ ایک ایسی محفل جو صرف لمحاتی تفریح فراہم کرے اور اصل مسائل سے توجہ ہٹائے۔ وقت آ چکا ہے کہ بلوچ قیادت دیوان کی اصل روح کو پہچانے اور اسے محض “تقریب” نہیں بلکہ “تحریک” بنائے۔













Leave a Reply