آفتاب اقبال، جو کبھی پاکستانی میڈیا کا ایک جانا پہچانا نام تھا، آج بھارتی میڈیا کے بیانیے کو پھیلانے میں مصروف نظر آتا ہے۔ ایک وقت میں مزاحیہ پروگراموں سے شہرت پانے والا یہ شخص اب سیاسی اور دفاعی معاملات پر غلط معلومات پھیلا کر عوام کو گمراہ کر رہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ انڈین کانٹینٹ رائٹرز کے ذریعے ایسا مواد تخلیق کر رہا ہے جو پاکستان مخالف عناصر کے بیانیے کو تقویت دیتا ہے۔ جعفر ایکسپریس حملے کے بعد اس نے حملے سے متعلق جھوٹا پروپیگنڈا کیا، جس میں سرنگ کے اندر حملے کا ذکر کیا گیا، حالانکہ حقیقت میں حملہ سرنگ کے باہر ہوا تھا۔
آفتاب اقبال کی جانب سے بی ایل اے کے دہشت گردوں کی تعریف کرنا اور انہیں فوجی حکمت عملی کے ماہر قرار دینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ درحقیقت دشمن کے بیانیے کو آگے بڑھا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ایک انتہائی مشکل آپریشن کے دوران ان دہشت گردوں کو واصل جہنم کیا جو خودکش بمباروں کے طور پر استعمال کیے جا رہے تھے۔ آفتاب اقبال جیسے لوگ ان کامیابیوں کو مسخ کر کے پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ عوام کے ذہنوں میں ریاستی اداروں کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کیے جا سکیں۔
یہ وہی آفتاب اقبال ہے جو ماضی میں مختلف چینلز پر ناکام پروگرام کرنے کے بعد اپنی کریڈیبلیٹی کھو چکا ہے۔ ایک ٹی وی چینل شروع کر کے سرمایہ کاروں کو اربوں کا نقصان پہنچانے والا شخص آج تک اپنے ورکرز کو تنخواہیں دینے سے قاصر ہے۔ جب اسے مین اسٹریم میڈیا پر ناکامی ہوئی تو اس نے سوشل میڈیا کا رخ کیا، مگر وہاں بھی اس کا مزاحیہ شو کامیاب نہ ہو سکا۔ اب اس نے شہرت اور دولت کمانے کا ایک نیا طریقہ اپنایا ہے، یعنی جھوٹی خبروں پر مبنی وی لاگز بنا کر مخصوص سیاسی اور دشمنی پر مبنی بیانیے کو فروغ دینا۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ریاست پاکستان ایسے شخص کو لگام نہیں ڈال سکتی جو کھلے عام دشمن کے بیانیے کو تقویت دے رہا ہے؟ کیا ایسے افراد کو انٹرپول کے ذریعے واپس لا کر ان کے خلاف قانونی کارروائی نہیں ہونی چاہیے؟ آفتاب اقبال جیسے لوگ نہ صرف قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ وہ نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کا ایک بڑا ذریعہ بھی بن رہے ہیں۔ ریاستی اداروں کو چاہیے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں تاکہ پاکستان مخالف پروپیگنڈے کا مؤثر طریقے سے سدباب کیا جا سکے۔













Leave a Reply