ایڈوکیٹ جنرل امجد خان اچکزئی اور ان کے خاندان کی مبینہ بے ضابطگیاں
بلوچستان ہائی کورٹ کے معزز ایڈوکیٹ جنرل، امجد خان اچکزئی—جو کہ معروف سیاسی شخصیت اصغر خان اچکزئی کے قریبی کزن بھی ہیں—قانون اور انصاف کے نگہبان سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انہی کے زیرِ سایہ ان کے خاندان کی سرکاری نوکریوں میں مبینہ اقربا پروری، جعلی ڈیوٹیوں اور غیر قانونی تنخواہوں کا سنگین انکشاف ہوا ہے۔
امجد خان کی اہلیہ گزشتہ 20 سال سے چمن کے علاقے مُردہ کاریز کے ایک سرکاری اسکول میں بطور GVT ٹیچر تعینات ہیں، لیکن نہ کبھی اسکول میں حاضر ہوئیں اور نہ کسی طالب علم کو پڑھایا۔ اس کے باوجود وہ ہر مہینے کوئٹہ میں بیٹھ کر تنخواہیں وصول کر رہی ہیں۔
ان کی ایک بہن بھی گزشتہ 15 سالوں سے ایک اسکول میں تعینات ہیں، لیکن وہاں بھی ڈیوٹی صفر اور تنخواہ مکمل ہے۔
اسی طرح حال ہی میں امجد خان کی دو مزید بہنوں کو SBK (سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی) کے تحت بطور ٹیچر تعینات کیا گیا، لیکن وہ بھی اسکول جانے کے بجائے گھروں میں آرام سے بیٹھی ہیں اور مکمل تنخواہیں لے رہی ہیں۔
این جی او کے پردے میں مبینہ کرپشن:
امجد خان چمن میں ایک این جی او “شہید اسد خان فاؤنڈیشن” کے نام سے چلا رہے ہیں، جس کے نام پر وہ NAVTTC اور حکومت پاکستان سے مختلف پراجیکٹس اور فنڈز حاصل کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ ادارہ چمن کے نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ فنڈز کہاں خرچ ہو رہے ہیں؟ کون سے نوجوان اس سے مستفید ہو رہے ہیں؟ اس پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ایسا شخص جو خود اپنے خاندان کو جعلی ڈیوٹیوں پر سرکاری تنخواہیں دلوا رہا ہو، وہ کس اخلاقی حیثیت سے عوامی فلاح کے دعوے کر سکتا ہے؟
یہ سب کچھ صرف ایک فرد یا خاندان کا مسئلہ نہیں — یہ ایک ادارتی بدعنوانی کی عکاسی ہے، جس کا نقصان عام شہری، خاص طور پر تعلیمی اداروں کے طلبہ، اٹھا رہے ہیں۔
ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ:
1. فوری تحقیقات کروا کر ان تمام جعلی حاضریوں، تنخواہوں اور این جی او کے فنڈز کا مکمل آڈٹ کیا جائے۔
2. ذمہ داروں کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جائے۔
3. ان تمام گھوسٹ ملازمین کو اصل ڈیوٹی پر رپورٹ کرنے کا حکم دیا جائے، بصورتِ دیگر برطرف کیا جائے۔
4. “شہید اسد خان فاؤنڈیشن” کے تمام سرکاری فنڈز اور پروجیکٹس کی تفصیلات کو عوام کے سامنے لایا جائے۔
ایڈوکیٹ جنرل کا عہدہ صرف ایک قانونی منصب نہیں، بلکہ اعتماد، شفافیت اور ذمہ داری کی علامت ہے۔ اگر وہ خود قانون شکنی کریں، تو عام شہری کا نظام پر اعتماد کیسے قائم رہے گا حکومت بلوچستان، اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ اور NAVTTC سے اپیل ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، کیونکہ یہ صرف ایک خاندان کی بات نہیں — یہ نوجوانوں کے مستقبل اور صوبے کے وسائل کی امانت کا مسئلہ ہے۔













Leave a Reply