بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی پر پیش رفت

کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی رومینا خورشید عالم کے درمیان اہم ملاقات منعقد ہوئی جس میں صوبے کو درپیش ماحولیاتی چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں اس امر پر زور دیا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی اس وقت ملک اور بالخصوص بلوچستان کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، جس کے اثرات روز بروز شدت اختیار کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان کو موسمیاتی آفات جیسے خشک سالی، سیلاب اور درجہ حرارت میں اضافے جیسے مسائل کا سامنا ہے، اس لیے صوبائی حکومت ایک جامع اور دیرپا حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے صوبے میں پہلا کلائمیٹ فنڈ قائم کر دیا گیا ہے تاکہ ماحولیاتی منصوبوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ گرین ہاؤس گیسوں کے عالمی اخراج میں بلوچستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، تاہم اس کے منفی اثرات سب سے زیادہ اسی خطے پر پڑ رہے ہیں، جس کے باعث خصوصی توجہ اور وسائل کی ضرورت ہے۔
ملاقات کے دوران وفاق اور صوبے کے درمیان ماحولیاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ رومینا خورشید عالم نے یقین دہانی کرائی کہ وفاقی حکومت بلوچستان کے ساتھ مل کر موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز کا مقابلہ کرے گی اور پالیسی سازی سے لے کر عملی اقدامات تک ہر سطح پر تعاون جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں ماحولیات کے شعبے میں سنجیدہ اور نتیجہ خیز پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔
اس موقع پر یہ بھی واضح کیا گیا کہ موسمیاتی پالیسی میں خواتین اور پسماندہ طبقات کی شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ ترقی کا عمل جامع اور مساوی بنیادوں پر آگے بڑھ سکے۔ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کو ماحولیاتی خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے مربوط پالیسی، مؤثر منصوبہ بندی اور بین الادارہ جاتی تعاون ناگزیر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *