وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں ریاست نے کبھی اندھا دھند طاقت کے استعمال کی پالیسی اختیار نہیں کی۔ ان کے مطابق محدود اور مخصوص کارروائیوں کو پورے صوبے میں ریاستی آپریشن کا نام دینا زمینی حقائق کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے متعلق پھیلائے جانے والے تصورات اور اصل حالات میں واضح فرق موجود ہے، جسے سمجھنا آج کے نوجوان کے لیے نہایت ضروری ہے۔
نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ اور روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو درست تاریخی حقائق اور قومی بیانیے سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، کیونکہ سوشل میڈیا کے ذریعے منظم انداز میں غلط معلومات اور جھوٹے بیانیے پھیلا کر نوجوانوں اور ریاست کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تشدد اور انتشار کے ذریعے ریاست کو کمزور کرنے کے خواب کبھی پورے نہیں ہوں گے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ نوجوانوں کو ذہنی فریب اور منظم بھرتی جیسے ہتھکنڈوں کے ذریعے گمراہ کیا جاتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہر منفی بیانیے کو بغیر تحقیق قبول کرنے کے بجائے سچ اور مثبت سوچ کو اپنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر ریاست ہے، جو ہمیشہ قائم رہے گی، اور ملک کو تقسیم کرنے کے خواب دیکھنے والے عناصر ہمیشہ ناکام ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ نوجوانوں کے ہر سخت سوال کا جواب دلیل، مکالمے اور حقائق کی بنیاد پر دینے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق وہ ہر تعلیمی ادارے، ہر جامعہ اور ہر قومی فورم پر نوجوانوں سے براہِ راست مکالمے کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہیں تاکہ غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں مؤثر طرزِ حکمرانی کا عملی ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے، کیونکہ ناقص حکمرانی ریاست مخالف رجحانات کو جنم دیتی ہے جبکہ بہتر حکمرانی ریاستی استحکام کی بنیاد بنتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں تین ہزار دو سو سے زائد بند اسکول دوبارہ فعال کیے جا چکے ہیں اور کئی پسماندہ علاقوں میں قیامِ پاکستان کے بعد پہلی بار بنیادی طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
تعلیم کے شعبے پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بینظیر بھٹو اسکالرشپ پروگرام بلوچستان کی تاریخ کا سب سے بڑا تعلیمی منصوبہ ہے، جس کے تحت نہ صرف سویلین شہداء کے بچوں بلکہ اقلیتوں اور خواجہ سرا افراد کو بھی تعلیمی وظائف دیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا ہر طالب علم سائنسی مضامین میں دنیا کی بہترین جامعات سے تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور دو سو سے زائد عالمی جامعات میں پی ایچ ڈی کے مواقع فراہم کیے جا چکے ہیں۔
آخر میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ بلوچستان کی بہتری اور ترقی کے لیے اپنی آخری سانس، آخری گھڑی اور آخری لمحے تک کام کرتے رہیں گے، کیونکہ ایک مستحکم، ترقی یافتہ اور باخبر بلوچستان ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت
بلوچستان میں حکمرانی، نوجوان اور ریاستی استحکام













Leave a Reply