ڈائریکٹریٹ آف وومن ڈویلپمنٹ بلوچستان کے زیرِ انتظام خواتین کو کاروبار کے لیے فراہم کیے جانے والے آسان قرضوں کے عمل سے متعلق تشویشناک اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مختلف ذرائع کے مطابق قرضہ اسکیم میں درخواست دینے والی بعض خواتین نے شکایت کی ہے کہ شارٹ لسٹنگ کے مرحلے پر ان سے غیر قانونی رقوم طلب کی جا رہی ہیں، جن کی مالیت مبینہ طور پر پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک بتائی جا رہی ہے۔
ان الزامات کے بعد عوامی اور سماجی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ یہ قرضہ اسکیم صوبے میں خواتین کو خود کفیل بنانے اور معاشی طور پر مستحکم کرنے کے مقصد سے شروع کی گئی تھی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کے غیر شفاف طریقے جاری رہے تو حقیقی مستحق خواتین اس سہولت سے محروم رہ جائیں گی، جبکہ فائدہ بااثر یا سفارش یافتہ افراد کو پہنچنے کا خدشہ ہے۔
سماجی کارکنوں اور شہری حلقوں نے حکومتِ بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ان الزامات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قرضوں کی تقسیم میں میرٹ، انصاف اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ یہ منصوبہ اپنے اصل مقصد کے مطابق خواتین کی فلاح و بہبود اور صوبے کی مجموعی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔













Leave a Reply