کوئٹہ میں اس وقت ایک اہم اور تشویشناک واقعہ زیرِ بحث ہے، جہاں اطلاعات کے مطابق سردار اختر مینگل کی مبینہ نجی جیل سے متعدد بلوچ افراد کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔ اس واقعے نے صوبے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ یہی سیاسی شخصیت طویل عرصے سے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کرتی رہی ہے، جبکہ اس واقعے نے ان پر خود ایسے واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات کو تقویت دی ہے۔
بازیاب ہونے والے افراد کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے باعث ان کی حالت تسلی بخش نہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس اہلکار جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور بازیاب افراد کو طبی امداد کی فراہمی سمیت قانونی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس واقعے نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم ہو۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ پہلے ہی حساس نوعیت اختیار کر چکا ہے، ایسے میں اس نوعیت کے الزامات مزید بے چینی پیدا کر رہے ہیں۔ صوبائی اور مرکزی اداروں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ معاملے کی مکمل اور بے لاگ تفتیش کو یقینی بنائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔













Leave a Reply