وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو ریاست کے قریب لانے کے لیے میرٹ، اچھی حکمرانی اور مسلسل ڈائیلاگ ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سے شکوے اپنی جگہ مگر ریاست نے کوئی گناہ نہیں کیا، ماضی میں بدعنوانی اور ناقص طرز حکمرانی کے باعث نوجوانوں اور ریاست کے درمیان خلا پیدا ہوا، لیکن اب حکومت اس فاصلے کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروباری مواقع پیدا کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے اور یوتھ پالیسی تشکیل دی گئی ہے، اسی مقصد کے لیے بلا سود قرضہ اسکیم کے تحت 16 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو مختلف پارٹنرز کے تعاون سے چلائی جا رہی ہے۔
تقریب میں صوبائی وزراء اور مشیروں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اداروں کے نمائندے بھی شریک تھے۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ دو سو ارب روپے کے محدود بجٹ کے ساتھ بلوچستان جیسے بڑے صوبے کی ترقی ایک مشکل عمل ہے، لہٰذا وفاقی حکومت اور عالمی پارٹنرز کا تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بلوچستان میں پہلا کلائمیٹ اور ویمن اکنامک امپاورمنٹ انڈومنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے جس سے خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے اور ماحول دوست منصوبوں کو تقویت دینے میں مدد ملے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ پر بڑھتی ہوئی آبادی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں سہولیات فراہم کرنے کا عمل تیز کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ زمینوں کی خرید و فروخت کے پرانے مہنگے طریقے اب برداشت نہیں کیے جائیں گے اور حکومت کفایت شعاری کے تحت غیر ترقیاتی بجٹ سے پہلے ہی اربوں روپے کی بچت کر چکی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے سیمینار میں سمال گرانٹ اسکیم کے تحت لگائے گئے اسٹالز کا معائنہ بھی کیا اور نوجوان کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کی۔ تقریب میں پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے سربراہ نادر گل بڑیچ نے کہا کہ “جی آر اے ایس پی” پروگرام کے تحت دی جانے والی گرانٹس نے چھوٹے کاروباروں کو نئے مواقع فراہم کیے ہیں، جس سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں بلکہ مقامی معیشت کو بھی سہارا ملا ہے۔ انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر کے نمائندے رابرٹ اسکنڈمور نے کہا کہ اس پروگرام نے بلوچستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو قومی اور عالمی منڈیوں سے جوڑ دیا ہے، جس کے نتیجے میں آمدنی اور روزگار میں اضافہ ہوا ہے۔
تقریب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ نے منتخب کاروباری افراد کو گرانٹس کے چیک دیے اور مہمانوں میں سووینئر تقسیم کیے۔













Leave a Reply