وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عالمی یومِ نوجوانان کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ صوبے اور ملک کا مستقبل نوجوانوں کے درست فیصلوں اور محنت پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پہلی یوتھ پالیسی مرتب کر کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں شامل کر دی گئی ہے تاکہ نوجوانوں کو بہتر مواقع، مہارتیں اور ترقی کے نئے دروازے فراہم کیے جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دور درست اور غلط میں فرق سمجھنے کا ہے، اور نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ تحقیق کے ذریعے حقائق سامنے لائیں اور معاشرے میں سچائی کو فروغ دیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے محکمہ تعلیم میں شفاف بھرتیوں کا نظام رائج کیا ہے اور پہلی بار یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کا آغاز کیا ہے، جس کے ذریعے نوجوانوں کو مہارتیں سکھا کر معاشی طور پر خودمختار بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان اس پروگرام سے فائدہ اٹھا کر اپنے اور اپنے خاندان کے لیے خوشحالی کا ذریعہ بنیں، کیونکہ مایوسی کسی مسئلے کا حل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو انٹرن شپ، آسان اقساط اور بلا سود قرضے فراہم کر رہی ہے، بالخصوص سرحدی علاقوں کے نوجوانوں کو اسمگلنگ سے نکال کر قانونی تجارت اور باعزت روزگار کی طرف لانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ “زمباد” جیسی اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی گاڑیاں نوجوانوں کا مستقبل نہیں بلکہ ترقی کا راستہ قانونی تجارت اور معاشی استحکام سے جڑا ہوا ہے۔ حکومت اخوت اور بی آر ایس پی کے ساتھ مل کر نوجوانوں کو بزنس کے لیے وسائل فراہم کرے گی تاکہ وہ فیصلہ سازی میں کردار ادا کر سکیں اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی پسماندگی ختم کرنے کے لیے بہتر گورننس، شفافیت اور میرٹ ہی واحد راستہ ہیں۔ نوجوان ریاستِ پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے صوبے اور ملک کی ترقی کے لیے مثبت کردار ادا کریں، کیونکہ پاکستان ایک مضبوط اور منظم فوج کا حامل ملک ہے جو کسی بھی منفی ایجنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ ان کا پیغام تھا کہ نوجوان مایوسی کو چھوڑ کر آگے بڑھیں اور دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔













Leave a Reply