بلوچستان حکومت نے گوادر میں پانی کی کمی کے مسئلے کے حل کے لیے فوری اور طویل المدتی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کوئٹہ میں ہونے والے اجلاس میں گوادر اور گرد و نواح کے علاقوں میں پانی کی فراہمی، درپیش چیلنجز اور جاری منصوبوں پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ اجلاس میں صوبائی اسمبلی کے رکن مولانا ہدایت الرحمٰن، چیف سیکرٹری شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات زاہد سلیم، پرنسپل سیکرٹری بابر خان، سیکرٹری خزانہ عمران زرکون، سیکرٹری پی ایچ ای محمد ہاشم غلزئی سمیت مختلف محکموں کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے، جبکہ ویڈیو لنک کے ذریعے گوادر پورٹ اتھارٹی، گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی، کمشنر مکران ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر گوادر نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ گوادر پورٹ اتھارٹی کا ڈی سیلینیشن پلانٹ بجلی کی بندش کی وجہ سے محدود سطح پر چل رہا ہے، تاہم اس کی پیداوار کو تین لاکھ گیلن یومیہ تک بڑھا دیا گیا ہے اور آئندہ تین دنوں میں یہ صلاحیت چھ لاکھ گیلن یومیہ ہو جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے پلانٹ کو مکمل استعداد کار سے چلانے اور بجلی کی بندش کے دوران متبادل توانائی کے ذرائع فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے شادی کور ڈیم سے پانی کی ترسیل کے منصوبوں کو تیز کرنے اور 15 دن کے اندر مکمل کرنے کا حکم دیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پانی عوام کی بنیادی ضرورت ہے اور اس میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین کی سربراہی میں ایک رابطہ کمیٹی قائم کی جائے گی جو روزانہ پیش رفت رپورٹ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کو دے گی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پانی کی قلت کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور اس مسئلے کی نگرانی وہ خود کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران سے بجلی کی طویل بندش کے مسئلے پر وزیر اعظم پاکستان اور پاور ڈویژن سے جلد بات چیت کی جائے گی تاکہ مستقل حل نکالا جا سکے۔
گوادر میں پانی کی فراہمی کے منصوبوں کی رفتار تیز، حکومت بلوچستان کے ہنگامی اقدامات













Leave a Reply