کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں اور سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسران شریک ہوئے جن میں آئی جی ایف سی (نارتھ)، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ اور لیویز کے سربراہان شامل تھے۔ وزیر اعلیٰ نے اجلاس کو موجودہ سیکیورٹی چیلنجز، ایکشن پلان پر عملدرآمد اور درپیش رکاوٹوں سے متعلق آگاہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پوری قوم کو متحد رہنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف اداروں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ہے اور عوام اور فورسز کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ ریاستی ادارے پوری ہم آہنگی اور سنجیدگی کے ساتھ صوبے میں امن کے قیام کے لیے سرگرم ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا جائے گا اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی جاری رہے گی۔ انہوں نے باور کرایا کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا اور ملک دشمن عناصر کے لیے پاکستان میں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی۔ وفاقی وزیر نے اس موقع پر بلوچستان میں امن قائم کرنے کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومت مل کر ملک دشمنوں کا قلع قمع کریں گے۔
بلوچستان میں قیام امن کے لیے فیصلہ کن اقدامات، دشمن کے عزائم ناکام بنانے کا عزم













Leave a Reply