سیاست میں اصولوں اور ذاتی مفادات کے درمیان فرق کرنا ہمیشہ سے ایک کٹھن سوال رہا ہے۔ محمود خان اچکزئی خود کو پشتون قوم کا نمائندہ قرار دیتے ہیں، اور حال ہی میں وہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی خواتین کے ساتھ بیٹھے نظر آئے، جو بظاہر یکجہتی کی ایک جھلک تھی۔ لیکن اس لمحے نے کئی سوالات کو جنم دیا۔
جب کوئٹہ میں ایک نوجوان پشتون لڑکا، مصور، کو اغوا کیا گیا اور عوام نے انصاف کے لیے احتجاج کیا — تو محمود خان اچکزئی کہاں تھے؟ کیا مصور پشتون نہیں تھا؟
اسی طرح جب ایک پشتون نورزئی اسسٹنٹ کمشنر، جو صرف اپنی ڈیوٹی ادا کر رہا تھا اور بلوچ علاقوں میں غریبوں کی خدمت کر رہا تھا، کو عوامی سطح پر تضحیک کا نشانہ بنایا گیا — اس وقت بھی اچکزئی کی جانب سے کوئی مذمت، کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
جب بی ایل اے کے شدت پسندوں نے پشتون ڈرائیورز کی گاڑیاں تباہ کیں، ان کا روزگار چھینا، یہاں تک کہ ایک نوجوان پشتون، جو سات بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا، کو زندہ جلا دیا گیا — تو بھی خاموشی ہی نظر آئی۔
آج اگر محمود خان اچکزئی بلوچ یکجہتی کمیٹی کے افراد کے ساتھ بیٹھتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی اصولوں پر مبنی سیاست ہے، یا صرف مفادات کی سیاست ہے؟ اگر یہ واقعی اصولی سیاست ہوتی تو شہید عثمان جیسے نظریاتی کارکن کے بیٹے کو ان کی جماعت چھوڑ کر نئی جماعت بنانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔
یہ تحریر کسی قوم یا نسل کے خلاف نہیں، بلکہ اُن رہنماؤں کے لیے ایک سوال ہے جو قوم پرستی کا چہرہ پہنے ہوئے ہیں، لیکن جب بات ان کے مفاد سے باہر نکلتی ہے تو ان کے اصول خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔
پشتون بھی مظلوم ہیں — اور اصل انصاف وہی ہے جو سب کے لیے ہو، بغیر کسی تفریق اور مفاد کے۔













Leave a Reply