کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں حالیہ سرہ ڈکئی واقعہ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جہاں انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان نے واقعے سے متعلق مکمل رپورٹ پیش کی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اجلاس کے دوران سخت الفاظ میں واضح کیا کہ واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور ان کو قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ اُنہوں نے حکام کو حکم دیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے لیویز اور پولیس کی حدود سے بالاتر ہو کر ایکشن لیں تاکہ کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں معصوم لوگوں کے قاتل کسی رعایت کے مستحق نہیں اور ان کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔ اُنہوں نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ دہشت گردوں کا تعاقب آخری حد تک کیا جائے گا اور کسی کو بلوچستان کے امن سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ دہشت گردی کے واقعات میں فوری رسپانس کے لیے موجودہ میکنزم کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ آئندہ کسی سانحے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ امن دشمن عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور صوبے میں قانون کی بالادستی ہر صورت قائم رکھی جائے گی۔
اجلاس کے اختتام پر سرہ ڈکئی واقعہ میں شہید ہونے والوں کے لیے دعا بھی کی گئی اور ان کے لواحقین سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔













Leave a Reply