کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی صدارت میں تمام محکموں کے انتظامی سیکرٹریز کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی مجموعی ترقی، گڈ گورننس اور سروس ڈلیوری کو بہتر بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بڑے پیمانے پر اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں اور ان اصلاحات کو صرف بیانات تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ انہیں عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ میرٹ کو بنیاد بنا کر فیصلے کیے جائیں گے کیونکہ یہی کامیابی کی اصل کنجی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ تمام ترقیاتی اسکیموں کی ذمہ داری متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز پر عائد ہوتی ہے اور ان منصوبوں کی مانیٹرنگ باقاعدگی سے کی جائے گی، چاہے وہ وفاقی فنڈز سے ہوں یا غیر ملکی تعاون سے۔ انہوں نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ گزشتہ مالی سال میں وسائل کے مکمل اور شفاف استعمال نے ایک نئی مثال قائم کی ہے، جس سے بلوچستان میں ترقیاتی فنڈز کے عدم استعمال کا تاثر ختم کرنے میں مدد ملی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اپنے افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے اور نظام کی بہتری اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اہل افراد کو درست جگہوں پر تعینات کرنا کارکردگی میں بہتری کی ضمانت ہے۔ نوجوانوں کے لیے شروع کیا گیا “چیف منسٹر یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام” صوبے کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے اور اس کی کامیابی متعلقہ اداروں کی سنجیدہ ذمہ داری ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نئے مالی سال کے آغاز کے ساتھ ہی ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کا آغاز حکومت کی سنجیدگی کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹیوں کی فعالی سے مقامی سطح پر درپیش مسائل کو بروقت حل کیا جا سکے گا اور حکومت کی ہر کوشش عام آدمی کے مسائل کے حل کے لیے وقف ہے۔ اس موقع پر انہوں نے فیلڈ افسران کی موجودگی کو عوامی خدمت کے لیے ناگزیر قرار دیا۔













Leave a Reply