وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ نوجوان افسران ریاستی نظام کا فعال اور مؤثر جزو ہیں، جن کی صلاحیتوں اور کردار سے صوبے میں گورننس کی بہتری، شفاف نظام حکومت اور عوامی خدمت کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ یہ بات انہوں نے مقابلے کے امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے والے نئے بھرتی شدہ افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
تقریب میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات زاہد سلیم، پرنسپل سیکرٹری بابر خان اور سیکرٹری خزانہ عمران زرکون بھی موجود تھے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی میں نوجوان افسران کا کردار نہایت اہم ہے۔ ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے فرائض خلوص نیت، دیانتداری اور عوامی خدمت کے جذبے سے انجام دیں۔ ان کے بقول، اختیار کو طاقت کی علامت نہیں بلکہ عوام کی خدمت کا ایک ذریعہ سمجھا جانا چاہیے، جبکہ ایک اچھے منتظم کی پہچان یہی ہے کہ وہ خلوص، سنجیدگی اور بروقت عمل سے عوامی مسائل کا حل نکالے۔
انہوں نے کہا کہ اگر بلوچستان کو مسائل سے نکال کر ترقی، استحکام اور امن کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور ایک مشترکہ وژن کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا بنیادی فریضہ پالیسی سازی ہے، جبکہ بیوروکریسی ان پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد کی ذمہ دار ہے۔ نوجوان افسران کو ریاستی پالیسیوں کی روح کو سمجھتے ہوئے انہیں عملی سطح پر نافذ کرنا ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے گزشتہ مالی سال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان نے مالی نظم و ضبط کو بہتر بناتے ہوئے غیر ترقیاتی اخراجات میں 14 ارب روپے سے زائد کی بچت کی۔ ساتھ ہی ترقیاتی فنڈز کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد منصوبے بروقت مکمل کیے گئے۔
انہوں نے پینشن بل میں اضافے جیسے چیلنج سے نمٹنے کے لیے اصلاحاتی اقدامات کا ذکر کیا اور کہا کہ ان اقدامات کا مقصد مالی نظام کو پائیدار بنانا ہے۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ گورننس اور سروس ڈلیوری کو اپنی ترجیح بنائیں، کیونکہ عوامی مسائل کا دیرپا حل اسی میں ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ نوجوانوں کو بلوچستان کی تاریخ اور زمینی حقائق سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ گمراہ کن بیانیے اور نظریات سے محفوظ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو درپیش اصل مسئلہ غیر متوازن ترقی نہیں، بلکہ بعض عناصر کی منفی سوچ ہے جو نوجوانوں کو ریاست سے بدظن کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں ترقی کا عدم توازن ایک چیلنج ہے، جس کا حل منصفانہ اور مربوط ترقیاتی منصوبہ بندی میں پوشیدہ ہے۔
آخر میں وزیراعلیٰ نے نوجوان افسران کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر وہ دیانتداری، شفافیت، قانون کی بالادستی اور عوامی خدمت کو اپنی پہچان بنائیں، تو وہ بلوچستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر لے جانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔













Leave a Reply