وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ہم بلوچستان کے نوجوانوں کو ہارورڈ اور آکسفورڈ جیسی دنیا کی بہترین جامعات میں تعلیم کے مواقع دے رہے ہیں جبکہ دہشت گرد انہیں خودکش حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکلے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کچھ عناصر بندوق کے ذریعے بات کرنا چاہتے ہیں، جس کا جواب پھر ویسا ہی دیا جائے گا۔
یہ بات انہوں نے جیکب آباد میں پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی میر اعجاز حسین جکھرانی سے ان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا کوئی قوم یا قبیلہ نہیں ہوتا، وہ صرف دہشت گرد ہوتے ہیں اور ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ بلوچستان میں ہم نوجوانوں کو تعلیم کی جانب راغب کر رہے ہیں اور انہیں یونیورسٹیز اور کالجز میں تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف کیا جا رہا ہے۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو اسکالرشپ کے ذریعے نوجوانوں کو بین الاقوامی تعلیمی اداروں میں داخلے دیے جائیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہم نوجوانوں کو روشن مستقبل دینا چاہتے ہیں اور یہی ہمارے اور دہشت گردوں کے نظریے میں واضح فرق ہے۔
لاپتہ افراد کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ یہ ایک پیچیدہ اور متنازعہ مسئلہ ہے۔ یہ طے کرنا مشکل ہے کہ کون زبردستی لاپتہ ہوا اور کون خود اپنی مرضی سے غائب ہوا۔ تاہم، اس حوالے سے بلوچستان اسمبلی میں خصوصی قانون سازی کی گئی ہے تاکہ آئندہ اس طرح کے الزامات ریاست یا اداروں پر نہ لگ سکیں۔
ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایران ہمارا برادر اسلامی ملک ہے اور ہم اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بلوچستان کا سرحدی علاقہ ایران سے ملتا ہے اور ہم نے وہاں خوراک سمیت دیگر ضروری انتظامات مکمل کر لیے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
انہوں نے جعفر ایکسپریس پر حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ جیکب آباد چونکہ بلوچستان کی سرحد سے متصل ہے، اس لیے ایسی کارروائی تشویشناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ بلوچستان میں حالات بہتر کیے جا سکیں۔













Leave a Reply