بلوچستان کے دو ہونہار اور محنتی نوجوان، ڈی سی ذاکر بلوچ اور اے ڈی سی ہدایت اللہ بلیدی، جنہوں نے برسوں کی جدوجہد اور محنت کے بعد صوبے کی بیوروکریسی میں جگہ حاصل کی، دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کی بربریت کا نشانہ بن گئے۔ ان نوجوانوں کا خواب تھا کہ وہ اپنے پسماندہ صوبے کی خدمت کریں، عوام کے مسائل کو حل کریں اور ترقی کا راستہ ہموار کریں۔ مگر افسوس کہ ان خوابوں کو ایک بار پھر خون میں ڈبو دیا گیا۔
یہ شہداء صرف سرکاری افسر نہیں تھے، بلکہ بلوچستان کے وہ چراغ تھے جو اندھیروں میں روشنی بن کر ابھرے تھے۔ ان کی کامیابیاں ہزاروں نوجوانوں کے لیے امید کا پیغام تھیں۔ انہوں نے دکھایا کہ علم، محنت، اور جذبے کے ذریعے ہر رکاوٹ کو پار کیا جا سکتا ہے۔ لیکن بی ایل اے جیسے دہشتگرد گروہ ان امیدوں کے دشمن ہیں۔ وہ صرف انسانوں کو نہیں مارتے، بلکہ ایک پوری قوم کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیلتے ہیں۔
بی ایل اے کی اس کارروائی کو صرف دہشتگردی کہنا کافی نہیں، بلکہ یہ نسل کشی ہے۔ ایک خاص طبقے، ایک خاص قوم، اور ایک خاص وژن کے لوگوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ المناک حقیقت دنیا اور خود پاکستان کی آنکھوں سے اوجھل کیوں ہے؟ انسانی حقوق کی تنظیمیں، بین الاقوامی میڈیا، اور خود ہماری ریاست اس نسل کشی پر خاموش کیوں ہیں؟
جب ایک قوم کے قابل ترین نوجوان اس طرح بے دردی سے مار دیے جائیں اور کوئی سوال نہ اٹھائے، تو یہ صرف ایک سانحہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی ناکامی ہے۔ ذاکر بلوچ اور ہدایت اللہ بلیدی کی شہادت ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ اب خاموشی کی گنجائش نہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم اس دہشتگردی کو اس کے اصل نام سے پکاریں اور اس کے خلاف متحد ہو کر آواز بلند کریں۔ بلوچستان کو اس کے اپنے بچوں سے محروم نہ کریں، کیونکہ یہی بچے اس سرزمین کی اصل طاقت اور امید ہیں۔













Leave a Reply