بیجنگ میں اپنے سرکاری دورے کے دوران گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے چینی نائب وزیر خارجہ سے ملاقات کی جس میں انہوں نے خطے میں تیزی سے رونما ہونے والی معاشی و سیاسی تبدیلیوں کے تناظر میں پاکستان بالخصوص بلوچستان کی معاشی ترجیحات پر روشنی ڈالی۔ گورنر نے کہا کہ ہمیں ہمسایہ ممالک کی تجارتی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اپنے معاشی نظام کو مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) ایک عظیم الشان منصوبہ ہے جس کا ایک کلیدی لنک بلوچستان ہے۔
گورنر کا کہنا تھا کہ سی پیک کے مغربی روٹ سے نہ صرف بنیادی ڈھانچے کی ترقی ممکن ہوگی بلکہ صنعت کاری اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جس سے بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کا معاشی منظرنامہ بدل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مغربی روٹ پر کام کی تیزی سے تکمیل اور سرمایہ کاروں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور سیکورٹی کے مضبوط فریم ورک کے تحت مثبت پیشرفت ہو رہی ہے۔
گورنر بلوچستان نے بیجنگ میں کمیونسٹ پارٹی، وزارت خارجہ اور چینی پالیسی اداروں کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کیں جن میں انٹرنیشنل ڈیپارٹمنٹ کے وائس منسٹر سن ہائی یان، چائنیز پیپلز انسٹیٹیوٹ آف فارن افیئرز کے ایمبیسڈر و نائب صدر ژاؤ پنگجیان اور ایم ایف اے کے وزیر لیو بن شامل تھے۔ ان ملاقاتوں میں سی پیک کی پیشرفت، تعاون کے امکانات اور بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
گورنر نے کہا کہ سی پیک کی بدولت ہمیں اپنی نوجوان نسل کو جدید فنی و تکنیکی مہارتیں سکھانے پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی اور اس سلسلے میں چین جیسے ترقی یافتہ ممالک اور عالمی اداروں کا تعاون انتہائی سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی کی معاشی سرگرمیوں میں شمولیت سے ملک کا معاشی نظام مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ سی پیک جیسے شاندار منصوبے کا اُبھرتا ہوا سورج پورے خطے کے معاشی جمود کا خاتمہ کرے گا اور یہ ہم سب کے لیے ایک نئی روشن صبح کی نوید ہے۔













Leave a Reply