خضدار میں اسکول بس پر ہونے والے المناک حملے نے پورے پاکستان کو ایک بار پھر دکھ، صدمے اور غم کی کیفیت میں مبتلا کر دیا۔ معصوم بچوں کا لہو ایک بار پھر اس بات کا گواہ بن گیا کہ دشمن ہماری نسلوں کو تاریکی میں دھکیلنے پر تُلا ہوا ہے۔ اس سانحے نے نہ صرف خضدار بلکہ پورے بلوچستان میں غم کی لہر دوڑا دی، اور ہر شہر، ہر قصبے میں شمعیں روشن کی گئیں تاکہ ان معصوم شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے، جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان کے دشمنوں کو بے نقاب کر دیا۔
بلوچستان کی عوام نے اس دکھ کی گھڑی میں جس اتحاد، ہمدردی اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ اس المناک سانحے کے بعد یہ بات اور بھی واضح ہو گئی کہ دہشت گرد تنظیمیں جیسے بی ایل اے اور بی ایل ایف نہ صرف ملک دشمن ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں بلکہ ان کے عزائم انسانی ہمدردی، بچوں کے مستقبل اور قوم کے امن کے سخت خلاف ہیں۔ یہ سانحہ پاکستان کے خلاف دشمن طاقتوں کی ایک بزدلانہ کوشش تھی تاکہ قوم کے دل میں خوف پیدا کیا جا سکے، لیکن خضدار کے عوام اور پورے بلوچستان نے ثابت کر دیا کہ وہ اپنے شہداء کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔
اس واقعے نے بلوچستان کے عوام کو ایک نئے جذبے اور حوصلے سے متحد کیا ہے۔ ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ، سیاستدان، طلباء، اساتذہ، اور عام شہری، سب اس عزم کے ساتھ کھڑے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ ریاست اور اپنے اداروں کے ساتھ ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان معصوم بچوں کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں ان کے مکروہ جرائم کی سزا دی جائے۔
یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ یہ معصوم بچے ہمارے قومی ہیرو ہیں۔ ان کا خون ہمارے دلوں میں چراغ بن کر جلتا رہے گا اور ہمیں یاد دلاتا رہے گا کہ پاکستان کی بقاء، امن، اور ترقی کے لیے ہمیں ہر قربانی دینی ہوگی۔ بلوچستان اب پہلے سے زیادہ مضبوط اور متحد ہے، اور دشمنوں کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔













Leave a Reply