وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سول اسپتال کوئٹہ کا ہنگامی دورہ کیا اور نوشکی میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے کے زخمیوں کی عیادت کی۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور سیریس نوعیت کے مریضوں کو ڈاکٹرز کی تجویز پر فوری طور پر کراچی منتقل کیا جائے تاکہ ان کا بروقت علاج ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے سانحے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے متاثرین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کے مکمل علاج معالجے کی یقین دہانی کرائی۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر ہیلی کاپٹر اور ایمبولینسز نوشکی روانہ کی گئیں تاکہ زخمیوں کو جلد از جلد طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ 70 سے زائد زخمیوں کو علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے اور وزیر صحت بخت محمد کاکڑ سمیت ماہر ڈاکٹرز ان کی نگہداشت میں مصروف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی کی غفلتوں کے باعث محکمہ صحت کو نقصان پہنچا تاہم موجودہ حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات لا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ صحت کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جا رہا ہے اور اندرون بلوچستان کے تمام اضلاع میں صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم عام غریب بلوچستانی تک معیاری طبی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سرکاری شعبے میں لائی جانے والی اصلاحات کی بدولت اب مریضوں کا معیاری علاج مقامی سطح پر کوئٹہ میں ہی ممکن ہو رہا ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ اور محکمہ صحت کے دیگر حکام نے وزیراعلیٰ کو حادثے کے فوری بعد اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی جس پر وزیراعلیٰ نے اظہار اطمینان کیا۔ انہوں نے صوبائی وزیر صحت، سیکرٹری، ڈاکٹرز اور طبی عملے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ متاثرین کی صحت یابی تک ہنگامی طبی خدمات کا تسلسل بلا تعطل جاری رکھا جائے۔













Leave a Reply