ایران میں اپنے دہشتگردی کے نیٹ ورک اور مسنگ پرسنز کی ایران میں موجودگی کے بے نقاب ہو جانے کے خوف نے دہشتگرد تنظیم بی این اے کو اس قدر حواس باختہ کر دیا کہ انہوں نے معصوم اور نہتے مزدوروں کو مخبری کے الزام میں بے دردی سے قتل کر ڈالا۔ یہ افسوسناک واقعہ اس ناقابلِ تردید حقیقت کا ثبوت ہے کہ اس وقت ایران میں بی ایل اے، بی ایل ایف اور بی این اے جیسے دہشتگرد گروہوں کے منظم نیٹ ورکس نہ صرف موجود ہیں بلکہ بھرپور انداز میں سرگرم بھی ہیں۔ یہ گروہ ایک طرف دنیا کو “مسنگ پرسنز” کے نام پر دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں، تو دوسری طرف بلوچستان اور پاکستان میں دہشتگردی کے اپنے ناپاک عزائم کو مسلسل آگے بڑھا رہے ہیں۔
ایران وہ ملک ہے جہاں ایسے عناصر نے پناہ لے رکھی ہے جو بلوچستان میں اپنے آپ کو مسنگ پرسنز کی فہرست میں شامل کروا کر روپوش ہو گئے تھے۔ بی این اے کے دہشتگردوں کا ایران میں سرعام معصوم مزدوروں کو قتل کر کے بلا خوف و خطر فرار ہو جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انہیں ایران میں نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں بلکہ مکمل سرپرستی بھی حاصل ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف خطے میں امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی لمحۂ فکریہ ہے۔ معصوم انسانوں کا بےدردی سے قتل اور دہشتگرد گروہوں کی آزادانہ نقل و حرکت اس امر کی متقاضی ہے کہ ایران میں موجود ان نیٹ ورکس کے خلاف سخت اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے تاکہ خطے میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔













Leave a Reply