وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے حال ہی میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز سے ملاقات کی جس میں انہوں نے بلوچستان میں پہلی مرتبہ سوشل میڈیا پالیسی متعارف کرانے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک ناقابلِ انکار طاقت بن چکا ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کی رہنمائی کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا اور کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جن کا بروقت سدباب ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست سب سے مقدم ہے اور گورننس میں موجود خامیوں کی نشاندہی کو خوش آئند سمجھا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ مثبت تنقید کو نہ صرف قبول کریں گے بلکہ اصلاحات کے عمل کو بھی تقویت دیں گے تاکہ گورننس بہتر بنائی جا سکے۔ میر سرفراز بگٹی نے اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ سوشل میڈیا صارفین کے تحفظات اور تجاویز کو نئی پالیسی کا حصہ بنایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور آگاہی کے بھرپور مواقع دیے جائیں گے تاکہ وہ خود کو ایک ذمہ دار شہری کے طور پر معاشرے میں کردار ادا کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کو بہتری کا ذریعہ بنایا جائے گا اور منفی پراپیگنڈے کا مؤثر طور پر راستہ روکا جائے گا۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ بلوچستان کی مثبت تصویر اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور سوشل میڈیا کو ایک تعمیری فورم کے طور پر استعمال کریں۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ انفلوئنسرز معاشرتی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نئے دور کے تقاضوں کے مطابق پالیسی سازی ناگزیر ہے تاکہ سوشل میڈیا کو مثبت سمت میں استعمال کیا جا سکے۔













Leave a Reply