وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے حال ہی میں کوئٹہ کی سڑکوں پر ایک بااعتماد لڑکی کو سکوٹی چلاتے دیکھا تو ان کے دل کو خوشی سے بھر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ ماہ پہلے جو خواب انہوں نے دیکھا تھا، آج وہ حقیقت بن کر ان کے سامنے ہے۔ یہ منظر نہ صرف ایک خوشگوار لمحہ تھا بلکہ اس بات کا ثبوت بھی تھا کہ بلوچستان کی بیٹیاں اب خودمختاری کی راہ پر گامزن ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے اپنے بیان میں کہا کہ پنک سکوٹی پروگرام صرف ایک مہم نہیں بلکہ ہر بیٹی کے لیے امید کی ایک روشن کرن ہے۔ یہ پروگرام ان خواتین اور بچیوں کے لیے ہے جو تعلیم، روزگار یا دیگر ضروریات کے لیے خود سفر کرنا چاہتی ہیں لیکن سفری سہولتوں کی کمی یا معاشرتی رکاوٹوں کی وجہ سے پیچھے رہ جاتی تھیں۔ اب سکوٹی کے ذریعے وہ نہ صرف آزادی سے سفر کر رہی ہیں بلکہ خوداعتمادی بھی حاصل کر رہی ہیں۔
یہ اقدام صرف ایک ٹرانسپورٹ اسکیم نہیں بلکہ خواتین کو بااختیار بنانے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ سکوٹی حاصل کرنے والی بیٹیاں نہ صرف اپنی تعلیمی یا پیشہ ورانہ زندگی کو بہتر بنا رہی ہیں بلکہ دوسری بچیوں کے لیے بھی مثال بن رہی ہیں۔ کوئٹہ جیسے شہر میں جہاں سڑکوں پر خواتین کا آزادانہ سفر ایک چیلنج سمجھا جاتا ہے، وہاں اس طرح کا منظر ایک معاشرتی تبدیلی کا اشارہ ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ پروگرام مستقبل میں مزید وسعت اختیار کرے گا تاکہ بلوچستان کی ہر بیٹی کو آزادی، خودمختاری اور تحفظ کے ساتھ جینے کا حق دیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری بیٹیاں خودمختار ہو رہی ہیں، اپنے قدموں پر کھڑی ہو رہی ہیں، اور ہم ان کے اس سفر میں قدم بہ قدم ساتھ ہیں۔
بلوچستان میں پنک سکوٹی پروگرام ایک امید، حوصلے اور ترقی کی علامت بن چکا ہے، جو نہ صرف آج کی بلکہ آنے والی نسلوں کی خواتین کو بااختیار بنانے میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔













Leave a Reply