جعفر ایکسپریس پر حالیہ دہشتگرد حملے میں ایک چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔ اس حملے میں استعمال ہونے والے اسلحے کے متعلق تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ اسلحہ وہی ہے جو امریکہ نے افغانستان میں اپنی افواج کے انخلا کے وقت چھوڑ دیا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ کی تازہ رپورٹ نے اس حقیقت کی تصدیق کی ہے کہ افغانستان میں بچ جانے والا امریکی اسلحہ اب پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کے استعمال میں آ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جعفر ایکسپریس حملے میں استعمال ہونے والی M4A1 رائفل اور دیگر کم از کم 63 ہتھیار وہی ہیں جو امریکہ نے افغان سیکیورٹی فورسز کو دیے تھے۔ ان ہتھیاروں میں ایم-16 رائفلز، نائٹ وژن ڈیوائسز اور جدید جنگی سازوسامان شامل ہے۔ امریکی محکمہ دفاع اور پینٹاگون نے بھی اس کی تصدیق کی ہے، جس سے یہ خدشہ درست ثابت ہو گیا کہ اربوں ڈالر کا امریکی اسلحہ اب پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔
یہ اسلحہ افغانستان میں چھوڑا گیا، جہاں سے یہ غیر قانونی طور پر سرحد پار اسمگل ہو کر پاکستان میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر دہشتگرد گروپوں کے ہاتھ لگ گیا۔ پاکستانی حکام اور صحافیوں نے اس جدید اسلحے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، جو اب بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف پاکستان کے لیے خطرناک ہے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر افغانستان سے مسلسل دہشتگردی کا سامان ہمارے ملک میں آ رہا ہے تو کیا اب بھی دنیا یہ دعویٰ کرے گی کہ افغانستان پاکستان کی بدامنی میں ملوث نہیں؟ یہ اسلحہ اور دہشتگرد عناصر ہمارے ملک کے امن کو سبوتاژ کر رہے ہیں، جبکہ امریکہ اور بھارت جیسے ممالک اس خطرناک صورتحال پر مکمل خاموش ہیں۔
پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر اس معاملے کو بھرپور طریقے سے اجاگر کرنا چاہیے تاکہ دنیا کو معلوم ہو کہ کس طرح افغانستان سے اسلحے کی ترسیل ہماری سرزمین پر دہشتگردی کو جنم دے رہی ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال مزید خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے، جس کا خمیازہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔













Leave a Reply