بلوچستان میں مصنوعی ذہانت کا مثبت استعمال: شفاف گورننس اور عوامی فلاح کی جانب اہم پیش رفت

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے منفی استعمال کو روک کر اس کے مثبت پہلوؤں سے استفادہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وہ محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے جس میں بلوچستان میں گورننس، مالیاتی نظم و نسق اور تعلیمی اسکالرشپس میں شفافیت لانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جدید آئی ٹی ٹیکنالوجی گورننس کو بہتر بنانے اور عوامی خدمات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو ڈیجیٹل گورننس کی طرف گامزن کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، جس سے شفافیت، میرٹ اور عوامی فلاح کے مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

اجلاس میں بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے تحت دی جانے والی مختلف اسکالرشپس میں نوجوانوں کی ذہنی صلاحیتوں کا تجزیہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی بنیاد پر کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ حکام نے بتایا کہ اے آئی کی مدد سے نوجوانوں کی انفرادی پروفائلنگ اور ان کی مخصوص صلاحیتوں کا درست تعین ممکن ہوگا، جس سے انہیں بہتر تعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع فراہم کیے جا سکیں گے۔ اجلاس میں محکمہ خزانہ اور ترقیاتی منصوبوں کے مالیاتی امور کو بھی جدید آئی ٹی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے پر بات کی گئی تاکہ وسائل کے ضیاع کو روکا جا سکے اور کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے۔

وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری خزانہ کو ہدایت دی کہ وہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے مثبت استعمال کے ذریعے گورننس کی بہتری کے لیے قابل عمل منصوبے ترتیب دیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت جدید آئی ٹی ٹولز اور اے آئی کے استعمال سے نوجوانوں کی رہنمائی، ترقی اور عوامی خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، پرنسپل سیکرٹری بابر خان، سیکرٹری آئی ٹی ایاز خان مندوخیل، سیکرٹری خزانہ عمران زرکون، بیف کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زکریا خان نورزئی اور اے آئی ایکسپرٹ عرفان ملک نے شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *