کوئٹہ میں گرین بس سروس معطل، عوام سفری مشکلات کا شکار

کوئٹہ کے شہریوں کو سفری سہولت فراہم کرنے والی گرین بس سروس گزشتہ ایک ہفتے سے اچانک معطل کر دی گئی ہے، جس سے ہزاروں افراد کو روزمرہ زندگی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت بلوچستان کی جانب سے ابھی تک اس اچانک فیصلے کی کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی، جس کی وجہ سے عوامی حلقوں میں بے چینی اور تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔

گرین بس سروس کو ایک سال سے زائد عرصے تک عوام کی سہولت کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، خاص طور پر درمیانے اور کم آمدنی والے افراد کے لیے یہ ایک سستی، صاف اور محفوظ سفری سہولت تھی۔ ملازمین، طلباء اور محنت کش طبقہ اسی بس سروس پر انحصار کرتا تھا، لیکن اب انہیں مہنگی رکشوں اور ٹیکسیوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے، جو ان کے محدود بجٹ پر بھاری بوجھ ہے۔

مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر سروس معطل کی گئی ہے، لیکن حکومتی خاموشی نے ان خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ابید خان، جو ایک گارمنٹس فیکٹری میں کام کرتے ہیں، نے بتایا کہ “یہ بس میری واحد سہولت تھی جس کے ذریعے میں وقت پر دفتر پہنچتا تھا، اب آمدورفت پر آدھی تنخواہ خرچ ہو رہی ہے۔” اسی طرح گل بانو، ایک اسکول ٹیچر، نے کہا کہ “میں ایک سال سے اس بس کو استعمال کر رہی تھی، یہ محفوظ، سستی اور وقت کی پابند تھی، اب طویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑ رہے ہیں۔” جامعہ کے طالب علم سعید احمد نے شکایت کی کہ “روزانہ رکشہ کرایہ دینا ممکن نہیں، گرین بس ہمارے لیے زندگی کی سہولت تھی۔”

گرین بس سروس کی معطلی نے حکومت کی ترجیحات پر سوال اٹھا دیے ہیں، اور عوام اس امید میں ہیں کہ جلد از جلد یہ سہولت دوبارہ بحال کی جائے گی تاکہ انہیں درپیش سفری مشکلات کم ہو سکیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *