بلوچستان میں گورننس کی بہتری اور ترقیاتی منصوبوں میں پیش رفت، پیرا شوٹ اسکیم کلچر کا خاتمہ

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت گورننس کی بہتری اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کی پیش رفت سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان میں اب صرف عوامی مفاد سے ہم آہنگ منصوبے ہی بجٹ کا حصہ ہوں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ “پیرا شوٹ اسکیم” کلچر دفن ہوچکا ہے اور ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، تیز رفتار پیش رفت اور عوامی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہوگی۔ اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار، ان کی تکمیل، اور سروس ڈلیوری سسٹم میں اصلاحات پر تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل سے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد بحال ہوتا ہے، اور یہی اعتماد ایک مضبوط اور مستحکم بلوچستان کی بنیاد بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب ہر محکمہ اپنی کارکردگی کا جواب دہ ہوگا اور جو محکمے ترقیاتی فنڈز کا بروقت استعمال نہیں کریں گے، ان کا سخت احتساب ہوگا۔ انہوں نے ہدایت دی کہ سست روی کا شکار منصوبوں پر کام کرنے والی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا جائے اور ناقص کارکردگی دکھانے والے محکموں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے بتایا کہ صوبے کے 3400 بند اسکولوں میں سے 1400 کھل چکے ہیں، جبکہ باقی اسکول مرحلہ وار کھولے جا رہے ہیں۔ ایس بی کے تحت اساتذہ کی بھرتی کے بعد رواں ماہ مزید 1800 اسکول فعال ہو جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے غیر حاضر سرکاری ملازمین کے خلاف سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ عادی غیر حاضر ملازمین کو برطرف کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں افسران کی دفاتر سے غیر حاضری عوام کے لیے مشکلات کا باعث ہے، جو ہرگز قابل برداشت نہیں۔

وزیر اعلیٰ نے بلدیاتی نمائندوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنے علاقوں میں موجود اساتذہ، ڈاکٹروں اور دیگر لائن ڈیپارٹمنٹس کے ملازمین کی حاضری کی مانیٹرنگ کریں اور اس حوالے سے جائزہ رپورٹ تیار کریں۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایات کی روشنی میں ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات کی رفتار تیز کی گئی ہے اور آئندہ ماہ تک 90 فیصد منصوبے مکمل کر لیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے زیر التوا منصوبوں کو یکمشت فنڈز جاری کر کے رواں مالی سال مکمل کیا جائے گا تاکہ ان پر مزید بوجھ نہ بڑھے۔ انہوں نے پالیسی سازی کو حکومت کی ذمہ داری قرار دیا اور کہا کہ اس پر عملدرآمد افسران کا کام ہے، جس میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ نے یہ بھی ہدایت دی کہ مانگی ڈیم کے منصوبے کو جلد مکمل کیا جائے اور معیاری سرکاری پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم متعارف کرایا جائے تاکہ عام شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ عوامی ضروریات کے مطابق ترتیب دیا جائے گا اور تمام محکمے منصوبہ بندی کرتے وقت عام آدمی کی ضروریات کو ترجیح دیں۔

انہوں نے ترقیاتی وسائل کے ضیاع، اسکیموں کی چوری اور فروخت کے کلچر کو ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ صرف وہی اسکیمیں بجٹ کا حصہ بنیں گی جو قانونی تقاضوں کے مطابق منظور شدہ اور عوامی مفاد سے ہم آہنگ ہوں گی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *