وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، تاہم آئین کے تحت “رائٹ ٹو اسمبل” یعنی اجتماع کا حق استعمال کرنے کا اختیار حکومت کے پاس ہے اور اس قانونی دائرہ کار کو سب کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز نوابزادہ میر اسرار اللہ زہری اور سردار کمال خان بنگلزئی سے چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ میں ملاقات کے دوران کیا۔
ملاقات میں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے جاری احتجاج، صوبے کی مجموعی سیاسی صورتحال اور جاری ڈیڈ لاک پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیر اعلیٰ نے دونوں رہنماؤں کو احتجاج کے پس منظر میں حکومت کی جانب سے کی جانے والی سیاسی اور انتظامی کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سردار اختر مینگل کے ساتھ اب تک بات چیت کے تین ادوار ہوچکے ہیں جن میں حکومت نے پیش کیے گئے تین میں سے ایک مطالبہ تسلیم کیا ہے۔
میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ حکومت نے مسئلے کے سیاسی حل کی سنجیدہ کوشش کی لیکن دوسری جانب سے مثبت ردعمل نہ آنے کی وجہ سے بات چیت میں ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی ادارے اور حکومت جمہوری عمل پر یقین رکھتے ہیں، لیکن کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے یا عوامی زندگی کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیاسی قیادت معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی تاکہ بلوچستان میں امن، ترقی اور استحکام کا عمل متاثر نہ ہو۔













Leave a Reply