وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اقتدار میں آتے ہی وہ راستہ اختیار کیا جو ماضی کے روایتی سیاست دانوں کے برعکس ہے۔ ان کے لیے بھی یہ آسان تھا کہ سابقہ حکومتوں کی طرح، سردار اختر مینگل جیسے شخصیات کو اربوں روپے دے کر خاموش کرا دیتے یا ماہرنگ جیسی خواتین کو احتجاج ختم کرنے کے لیے کروڑوں کی پیشکش کر کے اقتدار کے مزے لوٹتے، مگر انہوں نے وہ راستہ نہیں اپنایا۔ وہ کرسی پر بیٹھ کر خاموش تماشائی بننے کے بجائے آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے لڑنے کا عزم لے کر میدان میں اترے ہیں۔
سرفراز بگٹی نے بلوچستان میں قوم پرستی کے نام پر کی جانے والی سیاست کو بے نقاب کیا ہے، جہاں کچھ مخصوص گروہ خواتین کی چادر کی آڑ میں دہشتگردی اور انتشار کو فروغ دے رہے تھے۔ ان کی حکومت نے واضح پیغام دیا ہے کہ اب نہ قوم پرستی کے نام پر بلیک میلنگ چلے گی اور نہ خواتین کے ذریعے ریاست کو کمزور کرنے کی سازش برداشت کی جائے گی۔
آج اگر سرفراز بگٹی کے مخالفین کو بھارت جیسے دشمن ملک کی خفیہ حمایت حاصل ہے، تو دوسری طرف سرفراز بگٹی کے ساتھ پورا پاکستان کھڑا ہے۔ وہ صرف بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نہیں بلکہ پاکستان کے امن کے محافظ بھی ہیں۔ ان کی قیادت میں بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے جو اقدامات کیے جا رہے ہیں، وہ ملک دشمن عناصر کو ہضم نہیں ہو رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج سب سے زیادہ تنقید اور سازشیں انہی کے خلاف ہو رہی ہیں۔
جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ جیسے واقعات اور ریاست مخالف بیانیے کو کچلنے کے لیے سرفراز بگٹی جو فیصلے لے رہے ہیں، وہ وقتی سیاست سے بالاتر ہو کر طویل مدتی استحکام کی جانب پیش قدمی ہے۔ ان کا مشن واضح ہے: بلوچستان کے امن کے لیے، پاکستان کے سکون کے لیے، ریاست کے ہر دشمن کو شکست دینا۔ اور آج بلوچستان کی اکثریت یہ سمجھ چکی ہے کہ بگٹی کا راستہ ہی امن کا راستہ ہے۔













Leave a Reply