عنوان: آپریشن البدر – بلوچستان میں منافقوں کا انجام

بلوچستان میں ایک فیصلہ کن معرکہ برپا ہو چکا ہے، جہاں ریاست دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ “آپریشن البدر” صرف دہشت گردوں کے خلاف نہیں بلکہ ان تمام افراد کے خلاف ہے جو پس پردہ دشمن کے ایجنڈے کو فروغ دے رہے ہیں، ریاست کے خلاف پراپیگنڈہ کر رہے ہیں اور معصوم عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگ بدر میں منافقین نے مسلمانوں کے ساتھ ہونے کا دعویٰ کیا لیکن اندر سے وہ کفار کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کی صفوں میں رہ کر سازشیں کیں اور جنگ کے موقع پر انہیں تنہا چھوڑ دیا۔ آج بلوچستان میں بھی ایک ایسا ہی منظر نامہ ہے، جہاں کچھ عناصر مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر ریاست کے خلاف زہر اگل رہے ہیں، دہشت گردوں کے لیے راہیں ہموار کر رہے ہیں اور عوام کو اشتعال دلا رہے ہیں۔ مگر جیسے بدر میں منافقین بے نقاب اور رسوا ہوئے تھے، ویسے ہی آج بھی ان کے چہرے بے نقاب ہونے والے ہیں۔

بلوچستان کے دشمن ہمیشہ مختلف چالوں کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد پورے کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ وہ کبھی انسانی حقوق کا نعرہ لگا کر ریاست کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہیں، کبھی آزادی کا نام لے کر نوجوانوں کو ورغلاتے ہیں اور کبھی مظلومیت کا ڈھونگ رچا کر عالمی برادری کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ایک منظم سازش کا حصہ ہیں جو پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے رچی گئی ہے۔

ریاست نے اب فیصلہ کر لیا ہے کہ بلوچستان کو ان غداروں اور ان کے آقاؤں سے پاک کر کے رہے گی۔ “آپریشن البدر” اسی عزم کا اظہار ہے، جہاں ہر منافق کا چہرہ بے نقاب ہوگا اور ہر وفادار سرخرو ہوگا۔ بلوچستان کے عوام اب مزید ان سازشی عناصر کے دھوکے میں نہیں آئیں گے۔ وہ جان چکے ہیں کہ ان کے دشمن وہی لوگ ہیں جو ریاست کے خلاف کام کر رہے ہیں اور دشمن کے بیانیے کو تقویت دے رہے ہیں۔

یہ وقت بلوچستان میں امن و استحکام کا ہے، ترقی اور خوشحالی کا ہے، اور ریاست اس مقصد کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ دشمنوں کے خواب چکنا چور ہوں گے اور بلوچستان میں وہی پرچم سربلند ہوگا جو پاکستان کا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *