ڈاکٹر مہر اللہ ترین کی شہادت: دہشتگردی کے خلاف انسانیت کی ایک اور قربانی

بلوچستان ایک بار پھر دہشتگردی کی لپیٹ میں آ گیا، اور اس بار نشانہ بنایا گیا ایک ایسے انسان کو جو زندگیاں بچانے کے لیے کام کر رہے تھے۔ کوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکے میں نامور کینسر اسپیشلسٹ ڈاکٹر مہر اللہ ترین کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو شدید زخمی ہونے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔ یہ سانحہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، کیونکہ ڈاکٹر مہر اللہ ترین جیسی شخصیات معاشرے میں نایاب ہوتی ہیں۔ وہ ایک ماہر معالج ہونے کے ساتھ ساتھ ایک رحم دل انسان بھی تھے، جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ مریضوں کی خدمت اور ان کے علاج میں گزارا۔

بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے دہشتگرد گروہ ہمیشہ سے تعلیم، ترقی، اور انسانیت کے دشمن رہے ہیں۔ وہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے بے گناہ لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں اور بلوچستان کو تاریکی میں دھکیلنے کی سازش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر مہر اللہ ترین جیسے ماہر ڈاکٹر کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ دہشتگرد تنظیمیں نہ تو بلوچستان کے خیر خواہ ہیں اور نہ ہی عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں، بلکہ ان کا واحد مقصد خوف و ہراس پھیلانا اور ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے۔

بلوچستان پہلے ہی تعلیمی اور طبی سہولیات کے لحاظ سے پسماندہ ہے، اور ایسے میں اگر ایک تجربہ کار ڈاکٹر کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا جائے تو اس کا نقصان پورے معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر مہر اللہ ترین نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک قیمتی اثاثہ تھے، جنہوں نے سینکڑوں مریضوں کا علاج کیا اور انہیں ایک نئی زندگی دی۔ ان کی شہادت طبی برادری کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے، جسے کبھی پورا نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایسے واقعات پر قوم پرست تنظیمیں اور ان کے حامی خاموش نظر آتے ہیں۔ جب ایک ڈاکٹر، جو سیاست سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت میں مصروف تھا، دہشتگردوں کے ہاتھوں شہید ہوتا ہے، تو کوئی بھی نام نہاد قوم پرست اس ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا۔ ڈاکٹر مہر اللہ ترین بھی بلوچستان کا سرمایہ تھے، مگر ان کی شہادت پر وہی لوگ خاموش ہیں جو ہر موقع پر محرومی اور حقوق کی بات کرتے ہیں۔

بلوچستان کے عوام کو سمجھنا ہوگا کہ ترقی اور خوشحالی کا راستہ دہشتگردی اور انتشار سے نہیں بلکہ تعلیم، امن اور یکجہتی سے گزرتا ہے۔ ڈاکٹر مہر اللہ ترین جیسے افراد کا قتل دراصل ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد بلوچستان کو مزید پیچھے دھکیلنا ہے۔ ایسے عناصر کی نشاندہی اور ان کے خلاف آواز اٹھانا وقت کی ضرورت ہے تاکہ بلوچستان کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے اور ڈاکٹر مہر اللہ ترین جیسے انسانیت کے خادموں کی قربانی رائیگاں نہ جائے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *