بلوچستان، پاکستان کا سب سے وسیع رقبے پر پھیلا ہوا مگر سب سے کم ترقی یافتہ صوبہ، بے پناہ معدنی وسائل سے مالا مال ہے۔ یہاں کے پہاڑوں، ریگستانوں اور زمین کے نیچے چھپے بیش قیمت خزانے ہمیشہ سے ملکی معیشت کے لیے اہم رہے ہیں، مگر افسوس کہ ان وسائل کے اصل وارث، یعنی بلوچستان کے عام عوام، آج بھی بدحالی اور محرومی کا شکار ہیں۔
بلوچستان میں سرداری نظام ایک پرانی حقیقت ہے، جو آج بھی اپنی جڑیں مضبوطی سے گاڑے ہوئے ہے۔ ان سرداروں نے ہمیشہ سے اپنی سیاست کو محرومی اور استحصال کی داستانوں پر استوار کیا ہے۔ عوام کے حقوق کے نام پر سیاست کرنے والے یہی سردار خود ہی بلوچستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ ان کا اصل مقصد عوامی فلاح و بہبود نہیں بلکہ اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ اور دولت میں اضافہ کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے، جبکہ ان سرداروں کے محلات اسلام آباد، لاہور، کراچی سے لے کر دبئی، لندن اور دیگر ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔
اختر مینگل جیسے سیاستدان ہمیشہ بلوچستان کی محرومی کا نعرہ لگا کر اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ہیں۔ یہ لوگ کبھی بلوچستان کے وسائل کے استحصال پر بات نہیں کرتے کیونکہ خود بھی اسی کاروبار میں ملوث ہیں۔ ماربل، آئرن، کرومائیٹ اور دیگر قیمتی معدنیات کی غیر قانونی یا نیم قانونی نکاسی ان ہی سرداروں کے کنٹرول میں ہے، جو ان وسائل کو قومی ترقی کے بجائے اپنے بینک بیلنس بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی لوگ عوام کو ریاست کے خلاف بھڑکاتے ہیں اور مظلومیت کا راگ الاپتے ہیں، جبکہ حقیقت میں سب سے زیادہ استحصال وہ خود کر رہے ہوتے ہیں۔
بلوچستان کے عوام کے لیے وقت آگیا ہے کہ وہ ان سرداروں کی حقیقت کو پہچانیں۔ جب تک عام لوگ اپنے حق کے لیے کھڑے نہیں ہوں گے، یہ مخصوص طبقہ ہمیشہ ان کے جذبات اور حقوق کا استحصال کرتا رہے گا۔ بلوچستان کی ترقی صرف اسی وقت ممکن ہوگی جب عام آدمی کو اس کے وسائل پر حقیقی اختیار ملے گا، اور سرداری نظام کے نام پر وسائل لوٹنے والوں کا احتساب کیا جائے گا۔ اب وقت ہے کہ بلوچستان کے لوگ پہلے اپنے ہی اندر موجود ان نام نہاد رہنماؤں سے سوال کریں کہ آخر وہ محرومی کے خاتمے کے لیے کیا کر رہے ہیں، اور ان کے اربوں کھربوں کے اثاثے کہاں سے آئے؟ جب تک یہ سوال نہیں اٹھایا جائے گا، بلوچستان کی محرومی کا کاروبار چلتا رہے گا، اور اصل مجرم پردے کے پیچھے رہ کر اپنا کھیل کھیلتے رہیں گے۔













Leave a Reply