بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک بڑی پیش رفت دیکھنے میں آئی جب وفاقی وزراء، سیکرٹریز اور مختلف وفاقی محکموں کے سربراہان نے ایک ساتھ کوئٹہ کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد بلوچستان سے متعلق وفاقی امور کا جائزہ لینا اور زیر التواء مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنا تھا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس حوالے سے میڈیا کو تفصیلات فراہم کیں اور اجلاس میں ہونے والی گفتگو اور فیصلوں پر روشنی ڈالی۔
اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں وفاق سے متعلق بلوچستان کے مختلف معاملات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس کے دوران کل 47 ایجنڈا پوائنٹس زیر بحث آئے، جن میں مختلف ترقیاتی منصوبے، صوبے کو درپیش مالی، انتظامی اور قانونی امور، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور دیگر مسائل شامل تھے۔ وفاقی وزارتوں اور محکموں کے اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی اور متعلقہ امور پر بریفنگ دی۔
اجلاس میں وزارت پیٹرولیم، وزارت بحری امور، ایف بی آر، وزارت توانائی، وزارت ریلوے، وزارت مواصلات، پلاننگ کمیشن، وزارت خارجہ، وزارت اطلاعات و نشریات، پی ٹی اے، وزارت قانون، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، وزارت خزانہ، وزارت ہوا بازی، وزارت مذہبی امور، وزارت تجارت اور وزارت قانون و انصاف کے نمائندگان نے شرکت کی۔ ان محکموں کے حکام نے بلوچستان کے مسائل اور ان کے ممکنہ حل پر اپنی سفارشات پیش کیں۔
اس اجلاس کو بلوچستان کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں وفاق اور صوبے کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے اور حل طلب مسائل پر عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔ بلوچستان کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے اس نوعیت کے اجلاس مستقبل میں بھی جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تاکہ صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔













Leave a Reply