کوئٹہ: سیکیورٹی فورسز نے افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کی ایک کوشش ناکام بناتے ہوئے پشین کے علاقے توبہ کاکڑی سے چار مبینہ دہشت گردوں کو اسلحہ اور گولہ بارود سمیت گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق، خفیہ اطلاع ملنے پر سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد کے قریب کارروائی کی، جس کے نتیجے میں یہ گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ ایک سیکیورٹی افسر نے بتایا کہ یہ دہشت گرد گزشتہ تین دنوں سے علاقے میں چھپے ہوئے تھے اور پشین شہر میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ گرفتار ہونے والے دہشت گردوں میں سے ایک کی شناخت اسام الدین ولد گلشاد کے نام سے ہوئی ہے۔ ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، جن میں اے کے 47 رائفلیں، دستی بم اور دیگر ہتھیار شامل ہیں، برآمد کر لیے گئے ہیں۔ فورسز نے مقامی قبائلیوں کے تعاون کو بھی سراہا، جن کی مدد سے اس آپریشن میں کامیابی حاصل ہوئی۔
حکام کے مطابق، گرفتار دہشت گردوں نے ابتدائی تفتیش میں اعتراف کیا کہ انہوں نے سرحد پر لگائی گئی خار دار تار عبور کر کے پاکستانی حدود میں داخل ہونے میں کامیابی حاصل کی۔ مزید یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ یہ دہشت گرد مختلف شدت پسند تنظیموں کی مدد سے کارروائیاں کر رہے تھے۔ حکام نے افغان حکومت کو ایک بار پھر متنبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔ بلوچستان کے وزیر خزانہ اور معدنیات میر شعیب نوشیروانی نے سیکیورٹی فورسز کی اس کامیاب کارروائی کو سراہا اور دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کے عزم کا اظہار کیا۔ دیگر وزراء، جن میں میر صادق عمرانی، سلیم کھوسہ، عبدالصمد گورگیج اور سردار مسعود خان لونی شامل ہیں، نے بھی اس آپریشن کی تعریف کی اور واضح کیا کہ ریاستی عملداری کو کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیا جائے گا۔ گرفتار دہشت گردوں کو مزید تحقیقات کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔













Leave a Reply