بلوچستان کے پشتون بیلٹ میں بی ایل اے کی دھمکیاں اور نام نہاد قوم پرستی کا چہرہ

بلوچستان میں دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کی جانب سے پشتون بیلٹ میں موجود پشتونوں کو کھلم کھلا دھمکیاں دینا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ خاص طور پر کوئلے کی کانوں کے حوالے سے تنظیم کی جانب سے جاری دھمکیاں اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہیں کہ یہ دہشتگرد عناصر نہ صرف بلوچ قوم بلکہ پورے بلوچستان کے امن کے دشمن ہیں۔

بلوچستان میں کوئلے کی کانیں زیادہ تر پشتون علاقوں میں پائی جاتی ہیں، خصوصاً دُکی میں جہاں ناصر ترین اور لونی قوم کی ملکیت میں متعدد کانیں ہیں۔ یہاں کے مقامی لوگ محنت سے اپنا روزگار کماتے ہیں، لیکن بی ایل اے جیسے عناصر انہیں مسلسل ہراساں کر رہے ہیں اور ان کے ٹرکوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بی ایل اے آخر کون ہوتی ہے جو ان پشتون علاقوں میں آ کر اپنے غنڈہ گردی کا راج قائم کرنا چاہتی ہے؟ بلوچ قوم خود اس تنظیم کی نام نہاد آزادی کی جنگ کو مسترد کر چکی ہے، تو پھر یہ دہشتگرد کس کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں؟

ماضی میں بھی بی ایل اے اور دیگر مسلح گروہوں کی جانب سے پشتون علاقوں میں مداخلت دیکھنے میں آئی ہے، لیکن حالیہ دھمکیاں ظاہر کرتی ہیں کہ یہ تنظیم اپنے ہی لوگوں کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ بلوچ عوام نے ہمیشہ امن کا پیغام دیا ہے، اور وہ دہشتگردوں کے ان عزائم کو قبول نہیں کرتے۔ مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض نام نہاد قوم پرست رہنما ریاست کو اس بدامنی کا ذمہ دار ٹھہرا کر حقیقت کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حال ہی میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما نواب ایاز جوگیزئی نے دُکی کی کانوں میں پیش آنے والے واقعات اور ٹرکوں کو جلانے کا الزام ریاست پر ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن اب جب خود بی ایل اے کی جانب سے براہِ راست دھمکیاں دی جا رہی ہیں، تو کیا محمود خان اچکزئی اور منظور پشتین جیسے لوگ اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں گے؟ یا ہمیشہ کی طرح خاموش رہ کر اسے نظر انداز کریں گے؟

یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آج پشتون عوام مانگ رہے ہیں۔ اگر یہ لوگ واقعی مظلوموں کے حق میں بولنے کے دعوے دار ہیں، تو انہیں واضح طور پر اس دہشتگردی کی مذمت کرنی چاہیے۔ لیکن اگر وہ اب بھی خاموش رہتے ہیں، تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ ان کی سیاست صرف مخصوص مفادات کے گرد گھومتی ہے، نہ کہ عام عوام کے مسائل کے حل کے لیے۔ بلوچستان کے پشتون بیلٹ میں بی ایل اے کی بڑھتی ہوئی مداخلت نہ صرف یہاں کے مقامی لوگوں کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس سے پورے خطے میں بدامنی کو ہوا مل سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ریاست اور عوام مل کر ان سازشوں کو ناکام بنائیں اور بلوچستان کے تمام مظلوم عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے یکجا ہو جائیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *