بلوچستان میں طبی تعلیم اور صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے اہم اقدامات

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے جمعرات کے روز کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز ریجنل آفس کوئٹہ کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ (صدارتی تمغہ امتیاز) کی سربراہی میں خواتین ڈاکٹروں کے وفد نے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں صوبے میں صحت کے شعبے کو درپیش چیلنجز، طبی تعلیم کے فروغ اور جدید سہولیات کی فراہمی کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی بھی موجود تھیں۔

پروفیسر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے وزیر اعلیٰ کو بلوچستان میں صحت کے نظام کو درپیش مسائل اور ان کے ممکنہ حل کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے طبی تعلیم کے معیار کو مزید بہتر بنانے، جدید اسپتالوں کی تعمیر اور عوام کو معیاری علاج کی سہولتیں فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ عوام کو بہتر طبی خدمات میسر آسکیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ملاقات کے دوران صحت کے شعبے میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ حکومت بلوچستان صحت کے نظام کو مستحکم بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ کاوشیں کرنا ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو معیاری طبی خدمات حاصل ہو سکیں۔

پروفیسر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے وزیر اعلیٰ کے عزم کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ بلوچستان میں طبی تعلیم کے فروغ اور اسپتالوں کی بہتری کے لیے جلد عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے جدید آلات، تربیت یافتہ عملے اور موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو صحت کی بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ اس ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں صحت کے مراکز کو فعال بنانے اور طبی تعلیم کو مزید فروغ دینے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *