بلوچستان میں ایس بی کے اساتذہ کی بھرتیوں میں شفافیت اور اصلاحات – ایک اہم پیشرفت

بلوچستان میں ایس بی کے اساتذہ کی بھرتیوں کا عمل ابتدا ہی سے تنازعات اور بدعنوانی کی زد میں رہا ہے۔ ماضی میں اس عمل میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جہاں میرٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے بھاری رشوت کے عوض ملازمتیں فروخت کی گئیں۔ یہی وجہ تھی کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان، میر سرفراز بگٹی نے عہدہ سنبھالتے ہی اس مسئلے کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے تاکہ تعلیمی نظام میں بہتری لائی جا سکے اور مستحق امیدواروں کو ان کا حق دیا جا سکے۔

تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ گزشتہ حکومت کے دور میں ان بھرتیوں میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہوئی، جہاں اطلاعات کے مطابق اساتذہ کی پوسٹیں دس سے بیس لاکھ روپے میں فروخت کی گئیں۔ اس کے علاوہ، امتحانات کے دوران نقل کے واقعات اور موبائل فون کے ذریعے پیپرز کی تصاویر وائرل ہونے کے معاملات بھی سامنے آئے، جس سے یہ واضح ہوا کہ نظام میں کئی خامیاں موجود تھیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی، جس نے مختلف اضلاع میں چھاپے مار کر متعدد افراد کو گرفتار کیا۔ اینٹی کرپشن اداروں نے ایس بی کے یونیورسٹی میں بھی کارروائیاں کیں، جہاں جعلی ڈومیسائلز اور غیر قانونی طریقے سے پاس کیے گئے امیدواروں کے معاملات بے نقاب ہوئے۔ ان اقدامات کا مقصد بھرتیوں کے عمل میں شفافیت لانا اور بدعنوان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانا تھا تاکہ آئندہ ایسی بے ضابطگیوں کا راستہ روکا جا سکے۔

عہدہ سنبھالتے ہی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ بھرتیوں کے نتائج فوری طور پر جاری کرے تاکہ کامیاب امیدواروں کو جلد از جلد تعلیمی اداروں میں تعینات کیا جا سکے۔ تاہم، مختلف تاخیری حربے اپنائے گئے، لیکن حکومتی دباؤ کے نتیجے میں نتائج جاری کیے گئے۔ اس عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ ریویو کمیٹیاں قائم کی گئیں، جنہوں نے امیدواروں کے کوائف، اسناد اور ڈومیسائلز کی مکمل جانچ کی تاکہ کسی غیر مستحق فرد کو نوکری نہ دی جائے اور ہر اہل امیدوار کو اس کا حق ملے۔

اس اصلاحاتی عمل کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام اساتذہ کی بھرتیاں کنٹریکٹ کی بنیاد پر کی جائیں گی تاکہ صرف وہ افراد تنخواہوں کے مستحق ہوں جو باقاعدگی سے اسکولوں میں حاضر ہو کر تدریسی فرائض انجام دیں۔ اس پالیسی کا مقصد غیر حاضری اور جعلی بھرتیوں کے مسئلے کو جڑ سے ختم کرنا تھا تاکہ بلوچستان میں معیاری تعلیم کو فروغ دیا جا سکے اور تعلیمی اداروں میں فعال اور محنتی اساتذہ کی موجودگی یقینی بنائی جا سکے۔

تاہم، ان تمام اصلاحات کے باوجود بعض امیدوار اب بھی احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ تمام اضلاع کے نتائج بروقت جاری نہیں کیے گئے، اور کچھ فہرستیں تاحال التوا کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے ان کی ملازمتیں غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔ اس معاملے پر چیف سیکریٹری بلوچستان نے کئی بار نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ اس عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ کامیاب امیدواروں کو بلا تاخیر تقرری کے احکامات جاری کیے جا سکیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان، میر سرفراز بگٹی نے ابتدا سے ہی اساتذہ کی بھرتیوں میں شفافیت یقینی بنانے اور ایک میرٹ پر مبنی نظام متعارف کرانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔ حکومت کی ان کوششوں کا بنیادی مقصد بلوچستان کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانا اور صوبے کے بچوں کو مستند اور قابل اساتذہ کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ اگرچہ کچھ اضلاع میں مسائل اب بھی موجود ہیں، لیکن حکومت اس عمل کی تکمیل اور تمام اہل امیدواروں کے جائز حقوق کی فراہمی کے لیے سنجیدگی سے کوشاں ہے۔ بلوچستان میں تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لیے کیے جانے والے ان اقدامات سے امید ہے کہ مستقبل میں بھرتیوں کا عمل مزید شفاف ہوگا اور بدعنوانی کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے گا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *