بلوچستان کابینہ اجلاس میں اہم فیصلے

بلوچستان کابینہ کے حالیہ اجلاس میں صوبے کی ترقی، شفافیت اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں ڈیجیٹل لینڈ سیٹلمنٹ کی منظوری دی گئی جس کے تحت زمین کے تمام ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کیا جائے گا تاکہ شفافیت اور آسان رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، کچھی کینال زرعی پیداوار پر ٹیکس ریلیف دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا، جس کے تحت زمینداروں کو صوبائی ٹیکس میں رعایت دی جائے گی تاکہ زرعی شعبے کو مزید فروغ حاصل ہو۔

بلوچستان واٹر ریسورسز مینجمنٹ بل کی منظوری بھی دی گئی تاکہ آبی وسائل کا مؤثر اور درست استعمال ممکن ہو۔ زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے قابلِ عمل قانون متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا، جو توانائی کے بحران کو کم کرنے اور کسانوں کو ریلیف فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ علاوہ ازیں، ماہی گیری اور آبی زراعت کی نئی پالیسی منظور کی گئی، جس کا مقصد ماہی گیری کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور اسے مزید مستحکم بنانا ہے۔

بلوچستان ڈسپوزل آف موٹر وہیکلز رولز 2025 کی منظوری دی گئی، جس کے ذریعے گاڑیوں کی خرید و فروخت اور رجسٹریشن کے عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔ کیڈٹ کالج جعفر آباد کی بحالی کے لیے اضافی گرانٹ کی منظوری دی گئی تاکہ سیلاب متاثرہ تعلیمی ادارے کو دوبارہ فعال کیا جا سکے۔

بلوچستان فوڈ اتھارٹی لیبارٹری کے قیام کا فیصلہ بھی اجلاس میں کیا گیا، جس کا مقصد غذائی تحفظ اور معیار کی جانچ کے لیے ایک جدید لیبارٹری قائم کرنا ہے۔ تحصیل ڈیرہ بگٹی کو اے ایریا قرار دینے کی منظوری دی گئی تاکہ امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ سرکاری گندم کی اوپن مارکیٹ میں فروخت کے لیے کابینہ کمیٹی تشکیل دی گئی تاکہ یہ عمل شفاف طریقے سے انجام دیا جا سکے۔

جعفر آباد میں دو نئے پولیس اسٹیشنز کے قیام کی منظوری دی گئی تاکہ عوام کو بہتر سیکیورٹی فراہم کی جا سکے۔ انسداد دہشت گردی عدالت خضدار کے جج کی تقرری کا فیصلہ بھی کیا گیا تاکہ عدالتی نظام میں بہتری لائی جا سکے۔ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے لیے 65 ملین روپے کے فنڈز منظور کیے گئے، جو عوامی صحت کے منصوبوں کے لیے مختص کیے جائیں گے۔

رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دی گئی تاکہ شفاف طرز حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان تمام فیصلوں کا مقصد بلوچستان میں ترقیاتی کاموں کو تیز کرنا، عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور صوبے کے وسائل کا مؤثر استعمال ممکن بنانا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *