وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا طلبہ سے خطاب: سوشل میڈیا، ترقیاتی منصوبے اور قومی یکجہتی پر گفتگو

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے لسبیلہ زرعی یونیورسٹی آف ایگریکلچر، واٹر اینڈ میرین سائنسز کے طلبہ نے ملاقات کی، جس میں انہوں نے نوجوانوں کو عالمی، قومی اور علاقائی صورتحال پر مفصل آگاہی فراہم کی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے صوبے کی سیاسی، سماجی اور جغرافیائی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں، درپیش چیلنجز اور حکومتی اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ دور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا ہے، اور اس میں نوجوانوں پر سچائی جانچنے کی بھاری اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بے بنیاد پروپیگنڈے کے ذریعے نوجوانوں کو ریاست سے دور کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے منفی استعمال، پرتشدد رویوں اور سوشل موبلائزیشن کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور ریاست پاکستان کے خلاف بیرون ملک سے سوشل میڈیا نیٹ ورکس چلائے جا رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سوشل میڈیا موبلائزیشن کے ذریعے ریاست مخالف ریکروٹمنٹ کی جاتی ہے، اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے نوجوانوں کی منفی ذہن سازی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ جب انٹرنیٹ پر بلوچستان کے حوالے سے سرچ کیا جاتا ہے تو تشدد کو زیادہ نمایاں کر کے دکھایا جاتا ہے، جبکہ بلوچستان میں ہونے والی ترقی کو سرچ انجن میں اولین ترجیح کے طور پر ظاہر نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ریاست کے خلاف ہونے والی سازشوں کا ادارک ہونا چاہیے، کیونکہ مذہب اور قوم پرستی کے نام پر ہونے والی دہشت گردی میں کوئی فرق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کنفیوژن سے نکل کر قومی یکجہتی کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف پوری قوت سے لڑنا ہوگا۔ سیاسی مفادات کے لیے حقائق کے برعکس ریاست مخالف بیانیہ کو مقبول بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن سب کو سیاسی و انفرادی مفاد سے نکل کر ریاست کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ اگر کوئی پرتشدد راستے پر چلے گا تو ریاست اپنا کام کرے گی، اور یہ طے ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جیت ریاست کی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو ریاست مخالف عناصر کی نرسریاں نہیں بننے دیا جائے گا۔ دنیا کی کوئی بھی حکومت سڑکوں پر بیٹھ کر ریاست توڑنے کی باتیں کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی، کیونکہ افرادی خوشی یا سیاسی مفادات سے زیادہ ریاست کی سلامتی اہم ہے۔ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ غیر متوازن ترقی صرف بلوچستان کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے، اور بلوچستان میں کئی دہائیوں کے مسائل کو چند سالوں میں حل کرنا ایک مشکل چیلنج ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ گڈ گورننس کے قیام کے لیے حکومت سنجیدہ ہے، اور میرٹ پر نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی ناراض ہو یا خوش، حکومت پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ کوئی نوکری فروخت نہیں ہوگی۔ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت میں مکمل طور پر میرٹ پر بھرتی ہوئی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مند جیسے پسماندہ علاقے میں پہلی بار ایک لیڈی ڈاکٹر تعینات ہوئی، جبکہ پشین میں ایک غریب سوئپر کی بیٹی ٹیچر بنی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے طلبہ بےحد باصلاحیت ہیں، اور حکومت انہیں ترقی کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکالرشپ پروگرام بلوچستان سے شروع کیا گیا ہے، اور بینظیر بھٹو اسکالرشپ کے تحت میٹرک سے لے کر پی ایچ ڈی تک اسکالرشپ دی جا رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بلوچستان کی بچیاں بھی کسی سے کم نہیں، اور خواتین انتظامی افسران نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *