وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں طلبہ و طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین کے لیے ایک انقلابی اقدام اٹھاتے ہوئے اسکوٹیز اسکیم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد نوجوانوں کو جدید سفری سہولیات فراہم کرنا اور خواتین کو خود مختاری دینا ہے تاکہ وہ اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ سرگرمیاں باآسانی جاری رکھ سکیں۔ اس اسکیم کے تحت طالبات کو پنک اسکوٹیز اور طلبہ کو الیکٹرانک بائیکس فراہم کی جائیں گی، جس سے نہ صرف سفری مشکلات میں کمی آئے گی بلکہ وقت اور اخراجات کی بچت بھی ممکن ہوگی۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں اس اسکیم کو عملی شکل دینے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی، جو اس منصوبے کی تکمیل کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مشاورت اور معاونت سے بینک فنانسنگ کے ذریعے اس اسکیم کو مزید آسان اور مؤثر بنایا جائے، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ اسکیم عام شہریوں کے لیے بھی کھولی جائے تاکہ بلوچستان کے لوگ جدید سفری سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔
حکومت بلوچستان کی یہ کوشش خواتین کو خود مختاری دینے اور نوجوانوں کے لیے ایک بہتر اور جدید سفری نظام متعارف کرانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس سبسڈی اسکیم کے ذریعے ملازمت پیشہ خواتین کے سفری مسائل میں نمایاں کمی آئے گی اور انہیں زیادہ آزادی اور سہولت میسر آئے گی۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اعلان کیا ہے کہ اس منصوبے کا باضابطہ آغاز عالمی یوم خواتین کے موقع پر کیا جائے گا، تاکہ خواتین کی نقل و حرکت کو مزید آسان، محفوظ اور باسہولت بنایا جا سکے۔













Leave a Reply