ریکوڈک پروجیکٹ اور بلوچستان کی ترقی میں بلوچ بیٹیوں کا کردار

ریکوڈک پروجیکٹ بلوچستان کی معاشی ترقی کے سفر میں ایک سنگِ میل ثابت ہو رہا ہے، جہاں پورے صوبے سے سینکڑوں مرد و خواتین باعزت روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ یہ منصوبہ نہ صرف بلوچستان کے وسائل کو ترقی دے رہا ہے بلکہ مقامی افراد، خاص طور پر بلوچ خواتین، کے لیے بھی نئی راہیں کھول رہا ہے۔ ان خواتین کی شمولیت اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ بلوچستان کے عوام ترقی کے خلاف نہیں، بلکہ بہتر مواقع کے منتظر ہیں۔

مہرنگ غفار جیسے افراد یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام کسی بھی ترقیاتی منصوبے کو قبول نہیں کرتے، مگر ریکوڈک میں 85 فیصد مقامی افراد کی ملازمت، جن میں بلوچ خواتین بھی شامل ہیں، ان کے اس بیانیے کی نفی کرتی ہے۔ یہ خواتین صرف روزگار حاصل نہیں کر رہیں بلکہ اپنے خاندان، علاقے اور بلوچستان کی ترقی میں عملی کردار ادا کر رہی ہیں۔ نوکنڈی سے ڈیرہ بگٹی تک، مختلف علاقوں کی یہ باہمت بیٹیاں اپنی محنت اور لگن سے ثابت کر رہی ہیں کہ ترقی کے دروازے کھلے ہیں، بس مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔

بلوچ عوام ترقیاتی منصوبوں کے مخالف نہیں، بلکہ ان سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔ جو لوگ بلوچستان میں محرومی اور استحصال کی جھوٹی کہانیاں پھیلا کر عوام کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں، وہ درحقیقت صوبے کے روشن مستقبل سے خوفزدہ ہیں۔ ریکوڈک جیسے منصوبے بلوچستان کے عوام کو خودمختاری، خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن کر رہے ہیں۔ اگر بلوچستان کے لوگ واقعی ترقیاتی منصوبوں کے مخالف ہوتے تو کیا آج سینکڑوں بلوچ مرد و خواتین اس پروجیکٹ کا حصہ ہوتے؟

یہ وقت ہے کہ بلوچستان کے روشن مستقبل کی طرف قدم بڑھایا جائے اور منفی بیانیے کو مسترد کیا جائے۔ بلوچستان کے عوام ترقی چاہتے ہیں، اور وہ ہر اس آواز کا جواب اپنی محنت، قابلیت اور کامیابیوں سے دے رہے ہیں جو ان کے روشن مستقبل کے خلاف کھڑی ہوتی ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *