بلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے والی تنظیمیں بی ایل اے اور بی ایل ایف ایک بار پھر دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گئی ہیں۔ حال ہی میں کیچ میں ایک خیالی حملے کی ذمہ داری دونوں تنظیموں نے بیک وقت قبول کر لی، حالانکہ حقیقت میں ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔ یہ حرکت ان تنظیموں کے جھوٹے دعووں اور بیرونی عناصر سے ڈالر بٹورنے کی پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب بی ایل اے اور بی ایل ایف نے کسی خیالی حملے کی ذمہ داری لی ہو۔ ماضی میں بھی یہ تنظیمیں پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے ایسے من گھڑت دعوے کرتی رہی ہیں۔ ان کا مقصد صرف اور صرف بھارت کی خفیہ ایجنسی “را” جیسے ملک دشمن عناصر کو خوش کرنا اور ان سے مالی مدد حاصل کرنا ہے۔ ان تنظیموں کے لیے حقیقت کی کوئی اہمیت نہیں، بلکہ ان کے لیے اہم یہ ہے کہ وہ دنیا کے سامنے خود کو کسی بڑی قوت کے طور پر پیش کر سکیں، چاہے اس کے لیے انہیں جھوٹے بیانات ہی کیوں نہ دینے پڑیں۔
بلوچستان میں ریاستی عملداری کو کمزور کرنے کے لیے ان گروہوں کی جانب سے اکثر اسی طرح کے بے بنیاد بیانات جاری کیے جاتے ہیں۔ ان کے پروپیگنڈے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو غیر مستحکم دکھایا جائے اور بلوچ عوام میں بداعتمادی پیدا کی جائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان تنظیموں کا بلوچستان کے عوام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ صرف اور صرف بیرونی ایجنڈے کے تحت کام کر رہی ہیں، جن کا واحد مقصد دہشت گردی کو فروغ دینا اور غیر ملکی طاقتوں سے مالی فوائد حاصل کرنا ہے۔
حالیہ خیالی حملے کے دعوے سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ بی ایل اے اور بی ایل ایف کے پاس کوئی حقیقی مقصد یا نظریہ نہیں ہے۔ اگر یہ واقعی کسی مقصد کے لیے لڑ رہی ہوتیں تو کم از کم اتنی سنجیدگی ضرور دکھاتیں کہ پہلے آپس میں مشورہ کر لیتیں کہ حملہ ہوا بھی ہے یا نہیں۔ لیکن چونکہ ان کا مقصد صرف جھوٹے دعوے کر کے ڈالر کمانا ہے، اس لیے حقیقت کی پرواہ کیے بغیر بیان جاری کر دیا جاتا ہے۔
یہ وقت ہے کہ عوام ان جھوٹے دعووں اور پروپیگنڈے سے آگاہ ہو جائیں۔ بلوچستان کے عوام کو ان تنظیموں کے اصل چہرے کو پہچاننا ہوگا جو صرف اور صرف بیرونی طاقتوں کے اشاروں پر ناچ رہی ہیں۔ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور یہاں کی عوام ایسے کسی بھی ملک دشمن ایجنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ ان تنظیموں کی حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی، اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ مزید بے نقاب ہوتی جا رہی ہیں۔













Leave a Reply