وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا بلوچستان اسمبلی میں خطاب

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر سنجیدہ رویہ اختیار کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے واقعات کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کو غیر مستحکم کرنے کی سازشیں کئی دہائیوں سے جاری ہیں، لیکن پاکستان کی حقیقت کو تشدد کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کو آئین میں مکمل حقوق دیے گئے ہیں، اور ترقی صرف بلوچستان کا ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے غیر متوازن ترقی کو صوبے کا ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وائلنس کا راستہ لاحاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عناصر جو معصوم اور نہتے مسافروں کو نشانہ بنا رہے ہیں، ان سے مذاکرات کیسے ممکن ہیں؟ ریاست کو دہشت گردوں کی جانب سے تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن ہم ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔

اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قیادت کو فیصلے کرنے اور عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ بلوچستان کو حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔ ان کیمرا اجلاس کا مقصد بھی یہی ہے کہ تمام حقائق اسمبلی کے سامنے لائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پرچم کی بے حرمتی کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی، اور ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ بلوچستان کے عوام کی حقیقی خدمت کون کر رہا ہے۔

انہوں نے بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی فرد کے رویے کو پورے ادارے سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مولانا ہدایت الرحمان کی والدہ سے ناروا سلوک کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کے بنیادی حقوق کا احترام ضروری ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو سب سے زیادہ نقصان تشدد نے پہنچایا ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس مسئلے کا مستقل حل نکالیں۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ ہم نے 18 لاشیں بھی اٹھائیں اور گالیاں بھی سنیں، لیکن یہ صورتحال اب مزید برداشت نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بلوچستان کے عوام کی حقیقی خدمت کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے اور امن و ترقی کے دشمنوں کو شکست دی جائے گی۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *