وزیرِاعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزراء نے ایئرپورٹ پر وزیرِاعظم کا استقبال کیا۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، اور شہر میں اہم مقامات پر اضافی نفری تعینات کی گئی تھی تاکہ وزیرِاعظم کے دورے کو ہر ممکن طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔
وزیرِاعظم کے اس دورے کا بنیادی مقصد بلوچستان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینا اور وہاں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا معائنہ کرنا ہے۔ وزیرِاعظم گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل سے ون آن ون ملاقات بھی کریں گے، جس میں بلوچستان کی سیاسی، انتظامی اور ترقیاتی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس ملاقات میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال، جاری ترقیاتی اسکیموں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مختلف اقدامات پر غور متوقع ہے۔
وزیرِاعظم اپنے دورے کے دوران حالیہ دنوں قلات میں دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے آپریشن کے دوران زخمی ہونے والے جوانوں کی عیادت کے لیے بھی جائیں گے۔ وہ ان بہادر سپاہیوں کی خیریت دریافت کریں گے اور ان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کریں گے۔ اس موقع پر وزیرِاعظم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہیں گے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے اہم اعلانات بھی متوقع ہیں۔
وزیرِاعظم کے ہمراہ ڈپٹی وزیرِاعظم اور وزیرِخارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور وزیرِ بجلی اویس لغاری بھی موجود ہیں۔ یہ اعلیٰ سطحی وفد بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں اور دیگر اہم امور پر مشاورت کرے گا۔ توقع ہے کہ وزیرِاعظم کے اس دورے کے دوران صوبے میں جاری مختلف منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کے لیے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ بلوچستان کی ترقی اور امن و امان کے حوالے سے یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اور اس سے صوبے میں جاری ترقیاتی کاموں کو مزید تقویت ملنے کی امید ہے۔













Leave a Reply