قلات میں بی ایل اے کے دہشت گردوں نے ایک بار پھر اپنی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عام بلوچ اور پشتون شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، لیکن بلوچستان کے بہادر محافظوں نے ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ سیکیورٹی فورسز نے فرنٹ لائن پر آ کر دشمن کے حملے کا نہ صرف ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ حملہ آوروں کو ان کے انجام تک بھی پہنچایا۔ دہشت گردوں نے بزدلانہ حملہ کرکے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی، لیکن وہ یہ بھول گئے تھے کہ یہ وہ سرزمین ہے جہاں کے محافظ اپنی جانوں پر کھیل کر اپنے عوام کی حفاظت کرتے ہیں۔
سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے دشمن کے ہر وار کو ناکام بنایا اور ان دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔ یہ معرکہ نہ صرف ایک کامیابی تھی بلکہ اس نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ پاکستان کی بہادر فوج اور سیکیورٹی ادارے دشمن کے کسی بھی ناپاک ارادے کو پورا نہیں ہونے دیں گے۔ اس لڑائی میں ہمارے کئی جوانوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی، لیکن انہوں نے اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کو قدم جمانے نہیں دیا۔
یہ وہی فوج ہے جو ہمیشہ اپنی عوام کی حفاظت کے لیے صف اول میں کھڑی ہوتی ہے۔ جب دشمن بزدلانہ حملے کرتا ہے، جب دہشت گرد معصوم لوگوں کی زندگیاں چھیننے کی کوشش کرتے ہیں، تب یہی جوان اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر عوام کو محفوظ رکھتے ہیں۔ یہ قربانی، حب الوطنی اور فرض شناسی کی ایسی مثالیں ہیں جو تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
دوسری طرف، دہشت گردوں کی حقیقت سب پر عیاں ہے۔ وہ ہمیشہ خواتین اور بچوں کو ڈھال بنا کر حملے کرتے ہیں، معصوم شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، اور چھپ کر وار کرتے ہیں۔ ان کی بزدلی کا یہ عالم ہے کہ وہ کبھی میدان میں کھل کر مقابلہ نہیں کرتے، بلکہ عام لوگوں کو اپنی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھاتے ہیں۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ بلوچستان کے عوام اور ان کے محافظ ان کے عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
بلوچستان کے عوام اپنی فوج اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کون ان کا محافظ ہے اور کون دشمن۔ دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، کیونکہ یہ سرزمین ان کے لیے نہیں بلکہ ان بہادر سپاہیوں کے لیے ہے جو اس کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ دہشت گرد کمزور ہو رہے ہیں، اور ریاست مضبوط ہو رہی ہے۔ ان قربانیوں کے نتیجے میں بلوچستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کا سورج طلوع ہو رہا ہے، اور وہ دن دور نہیں جب دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوگا اور یہ خطہ مکمل طور پر پرامن ہو جائے گا۔













Leave a Reply