وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا نیا اقدام – سرکاری ہسپتالوں میں بائیو میٹرک حاضری لازم قرار

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں بائیو میٹرک حاضری کے نظام کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ہسپتالوں میں عملے کی حاضری کو یقینی بنانا اور صحت کے شعبے میں بہتری لانا ہے۔ بلوچستان میں سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر عملے کی غیر حاضری ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ بائیو میٹرک حاضری کے نفاذ سے عملے کی بروقت موجودگی کو یقینی بنایا جائے گا اور غیر حاضر یا تاخیر سے آنے والے ملازمین کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بلوچستان کے عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق، ہسپتالوں میں عملے کی غیر حاضری کی شکایات مسلسل موصول ہو رہی تھیں، جنہیں اب کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بائیو میٹرک نظام کے تحت ہر ملازم کی روزانہ کی بنیاد پر حاضری کو ریکارڈ کیا جائے گا اور اس کی روشنی میں تنخواہیں اور دیگر مراعات دی جائیں گی۔

ذرائع کے مطابق، یہ نظام مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا، جس میں ابتدائی طور پر بڑے شہروں کے ہسپتالوں کو شامل کیا جائے گا، اس کے بعد دیگر اضلاع میں اس کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس منصوبے پر جلد از جلد عمل درآمد یقینی بنائیں۔

عوامی حلقوں نے حکومت کے اس فیصلے کو سراہا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے سرکاری ہسپتالوں میں نظم و ضبط قائم ہوگا اور مریضوں کو بروقت علاج معالجے کی سہولت ملے گی۔ تاہم، کچھ سرکاری ملازمین نے اس فیصلے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نظام کو شفاف اور مؤثر انداز میں لاگو کرنا ضروری ہوگا تاکہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔

بلوچستان حکومت کی یہ کوشش صحت کے نظام میں بہتری کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پر کس حد تک کامیابی سے عمل درآمد ہوتا ہے اور کیا واقعی یہ نظام ہسپتالوں میں مثبت تبدیلی لا سکے گا یا نہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *