حب میں پانی کے بحران کے حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ہدایات پر صوبائی وزیر آبپاشی صادق عمرانی نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے حب کا دورہ کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں سیکریٹری حافظ ماجد، پی ڈی ونڈر ڈیم ناصر مجید، ایکسین آبپاشی عبدالجبار زہری، ڈپٹی کمشنر حب منصور قاضی، چیف انجینئر پی ایچ ای عارف شاہ اور دیگر صنعتکاروں نے شرکت کی۔
اجلاس میں صنعتی زون اور شہری آبادی کی پانی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم فیصلے کیے گئے۔ تین ارب روپے کی لاگت سے حب ڈیم سے لیڈا اسٹوریج تالاب تک پائپ لائن اسکیم کی منظوری دی گئی۔ صنعتی زون کے مسائل کے حل کے لیے ڈپٹی کمشنر حب اور ایم ڈی لیڈا کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تاکہ صنعتکاروں کو درپیش مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جا سکیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ حب کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ اس ضمن میں صوبائی وزیر میر علی حسن زہری کی تجویز پر ضلع حب میں دس نئے ڈیمز بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ پانی کی قلت کو کم کیا جا سکے۔ حب ڈیم سے بلوچستان کے پانی کے حصے کو بڑھانے کے لیے حکام سے بات چیت کی جائے گی اور صنعتی زون کی ضروریات کے لیے گیس کے شیئر پر بھی عملدرآمد کروایا جائے گا۔
صوبائی وزیر آبپاشی نے چیمبر آف کامرس کے وفد کو یقین دہانی کروائی کہ حب کے صنعتی زون کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے تمام تر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے پانی بنیادی ضرورت ہے اور اس حوالے سے منصوبہ بندی کو یقینی بنایا جائے گا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری کی بلوچستان کی ترقی میں ذاتی دلچسپی کو بھی سراہا گیا۔ حب کو صنعتی اعتبار سے مزید ترقی دینے کے لیے پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ ملک بھر سے روزگار کے متلاشی افراد کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔













Leave a Reply