بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ پانچ شہروں، کوئٹہ سٹی، پشین، قلعہ سیف اللہ، اور صحبت پور میں 250 گھروں کی تعمیر مکمل کر لی گئی ہے۔ یہ مکانات غیر سرکاری فلاحی ادارے کشمیر آرفین ریلیف ٹرسٹ کے تعاون سے تعمیر کیے گئے ہیں، اور ان کی چابیاں متاثرین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ اس حوالے سے منعقدہ تقریب میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے خطاب کیا اور متاثرین کی بحالی کو انسانیت کی بے لوث خدمت قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کشمیر آرفین ریلیف ٹرسٹ جیسے اداروں کی خدمات کو امید کی کرن قرار دیتے ہوئے اس کار خیر میں شامل تمام ڈونرز، مخیر حضرات، اور رضا کاروں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ایسے اداروں کو ہر ممکن معاونت اور حوصلہ افزائی فراہم کی جائے گی۔
تقریب میں وزیر اعلیٰ نے بلوچستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں وفاقی حکومت کے بحالی منصوبے کے تعطل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ منصوبہ بلوچستان کے حوالے کیا جائے تو صوبائی حکومت اسے 8 سے 9 ماہ میں مکمل کر سکتی ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت کے طرز پر متاثرین کے لیے گھروں کی جلد تعمیر اور حوالگی کا عزم بھی ظاہر کیا۔
وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ بلوچستان میں یتیم بچوں اور بچیوں کے لیے ایک عظیم الشان ادارہ قائم کیا جائے گا، جس کے لیے حکومت بلا معاوضہ اراضی فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بلوچستان کے عوام نے مشکل وقت میں کشمیر کے زلزلہ متاثرین کی مدد کی تھی، اور آج کشمیر آرفین ریلیف ٹرسٹ نے بلوچستان کے لوگوں کی مدد کرکے بے لوث خدمت خلق کا قرض لوٹا دیا ہے۔
کشمیر آرفین ریلیف ٹرسٹ کے چیئرمین چوہدری محمد اختر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ادارے کی خدمات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزراء، پارلیمانی سیکرٹری، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما، بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے وائس چیئرمین بلاول خان کاکڑ، اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان بدل رہا ہے، اور ہم سب مل کر اسے ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے













Leave a Reply